سرحدی علاقے ڈیری ڈبسی کے طلباء کی روزانہ چیکنگ ،کتابیں تھیلے سے نکال دی جاتی ہیں

 مینڈھر//مینڈھر کے سرحدی علاقہ ڈیری ڈبسی کے طلباء کوسکول آنے اور جانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔واضح رہے کہ یہ علاقہ باڑ کے اندر واقع ہے ۔طلباء کاکہناہے کہ جب وہ صبح سکول آتے ہیں تو فوج ان کی کتابیں بستوںسے نکال کر چیک کرتی ہے اور پھر واپسی پر بھی یہی عمل دہرایاجاتاہے جس کی وجہ سے ان کا بیشتر وقت ضائع ہوتاہے اور وہ سکول بھی دیر سے پہنچتے ہیں۔علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب فوج کو یہ معلوم ہے کہ یہ بچے روزانہ سکول آتے اور جاتے ہیں تو پھر ان کو اتنا تنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوج کے پاس چیکنگ کے لئے سب سامان موجود ہے تو پھر بیگوں سے کتابیں باہر نکالنانہیں چاہئے بلکہ اس کے بغیر بھی بیگ چیک ہوسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ وہ پہلے سے ہی ستائے ہوئے ہیںاور ان کے بچوں کی تعلیم میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں ۔انہوں نے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے اپیل کی کہ فوج کو ایک حکم نامہ جاری کیا جائے تاکہ بچے آسانی سے سکول آ سکیں اور واپس گھر جا سکیں۔اس ضمن میں جب ایک سکولی بچے سے بات کی گئی تو اس کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہر روز انہ یہی کچھ ہوتا ہے اور تمام کتابیں بیگوں سے باہر نکلوائی جاتی ہیں اور سختی سے چیک کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ اس سلسلہ میں جب ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ محمد اعجاز اسد سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے بھی اس حوالے سے فوج سے بات کی ہے اور وہ پھر سے بات کریںگے تاکہ بچے آسانی سے سکول آاور جاسکیں اور ان کا وقت ضائع نہ ہونے پائے ۔