سرجیکل سٹرائک کے دوران گرفتار ہوئے بھارت کے فوجی اہلکار کی قبل از وقت سبکدوشی کی درخواست

سری نگر//سرجیکل سٹرائیک کے دوران سرحد عبور کرنے اور پاکستان میں چار مہینے تک مقید رہنے والے بھارتی فورسز اہلکار چندو بابولعل چوہان نے قبل از وقت سبکدوشی کے لیے درخواست دی ہے۔یاد رہے 2016میں فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اندر داخل ہوکر وہاں قائم کئی جنگجو کیمپوں کو کامیاب سرجیکل سٹرائیک کے تحت تباہ کیا تھا تاہم پاکستان نے بھارتی دعویٰ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان علاقوں میں بین الاقوامی صحافیوں کی ایک ٹیم کو دورے کراکے زمینی حالات سے واقف کرایا کہ یہاں بھارت کی جانب سے کئی بھی سرجیکل سٹرائیک نہیں ہوئی تھی۔ تاہم کچھ روز بعد ہی پاکستان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سرحد عبور کرنے کی پاداش میں بھارت کے ایک فوجی اہلکار کو گرفتار کیا ہے۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق 2016میں فوج کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اندر داخل ہوکر وہاں دراندازی کی تاک میں بیٹھے جنگجوئوں کے خلاف کامیاب سرجیکل سٹرائیک کی جس کے دوران کئی جنگجوئوں کو ہلاک اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تاہم اس کے کچھ روز بعد ہی پاکستانی فوج کی جانب دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے سرحد کو عبور کرنے والے بھارتی فوجی کو زندہ گرفتار کرلیا ہے جس کے بعد مذکورہ بھارتی فوجی جس کی شناخت سپاہی چندو بابولعل چوہان کے بطور ہوئی کو چار ماہ تک پاکستان کی قید میں رکھا گیا اور بعد میں انسانی بنیادوں پر رہا کیا گیا۔ 24سالہ چوہان جو دماغی ہسپتال کرکی میں زیر علاج ہیں نے اپنی ملازمت سے قبل از وقت سبکدوشی کے لیے درخواست جمع کی ہے۔ چندولعل نے اپنی درخواست میں افسران سے گزارش کی ہے کہ وہ گزشتہ دو برسوں سے ذہنی طور پر پریشان ہے ۔ مذکورہ فوجی کو گزشتہ روز ہسپتال سے رخصت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے قبل از وقت اپنی سبکدوشی کے حوالے سے اپنے سینئر افسران کو ایک درخواست روانہ کردی ہے جس میں میں نے اُن سے گزارش کی ہے کہ وہ مجھے اپنی ذمہ داریوں سے فارغ کریں اور مجھے پنشن فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے مجھے ہر قسم کی سہولیات میسر رکھی اور مجھے فوج سے کوئی شکایت نہیںہے۔ ادھر فوج کی جنوبی کمانڈ نے بتایا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔