سحری۔ مسنون و باعثِ اجر و ثواب عمل

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق
ارشادِ ربانی ہے ۔’ ’اور کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو‘‘(سورۃ البقرہ)رمضان المبارک میں سحری کھانے کی فضیلت اور اس کے فیوض و برکات کا بکثرت تذکرہ ہمیں احادیث مبارکہ میں ملتا ہے۔ کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالالتزام روزے کا آغاز سحری کھانے سے فرماتے اور دوسروں کو بھی سحری کھانے کی تاکید فرماتے۔ سحری سے مراد وہ کھانا ہے جو انسان رات کے آخری حصے میں تناول کرتا ہے، اور اسے سحری اس لیے کہا گیا ہے کہ رات کے آخری حصے کو سحر کہتے ہیں اور یہ کھانا اُسی وقت میں کھایا جاتا ہے۔

سحری کے حوالے سے بعض لوگوں کا عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ سحری کو سنت اور باعث خیر وبرکت سمجھتے ہی نہیں اور وہ بغیر سحری کے ہی روزہ رکھ لیتے ہیں اور فخریہ انداز میں کہتےہیں : میں نے آج ’’بن سحری‘‘ کے روزہ رکھا ہوا ہے ، یا درمیان رات میں ہی سونے سے قبل کھالیتے اور اس پر سحری کا اطلاق کردیتے ہیں، یا تو انہیںیہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ اخیر رات میں اٹھ نہیں پائیں گے یا انہیں نیند اتنی عزیز ہوتی ہے کہ سحری کی برکت سے محروم ہوجاتے ہیں، یا سحری کی برکات اور اس کے فضائل کا علم ان کو سرے سے ہوتا ہی نہیں۔ اس لئے سب سے پہلے تو یہ جان لینا چاہئے کہ سحری نہایت خیر وبرکت کا باعث عمل ہے۔اس لئے سحری آخری وقت سحرمیں کرنی چاہئے ، گرچہ تھوڑی مقدار میں سنت پر عمل کے لئے سحری میں کچھ کھا لیا جائے ، لیکن سحری کی برکت اور فضیلت سے محرومی یہ بڑی محرومی ہے ۔سحری کا عمل شعاراسلام سے تعلق رکھتا ہے ۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس شخص کی آنکھ اتنی دیر سے کھلی کہ فجر کی اذان ہورہی تھی یا اس کے بھی کچھ دیر بعد کھلی تو اُس کے لئے جلدی جلدی سحری کھالینا جائز ہےٗ یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے۔ اس لئے کہ سحری کا وقت صبح صادق سے پہلے ہے صبح صادق کے بعدسحری کھانا جائز نہیں، خواہ اذان ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ (معارفُ القرآن)

بعض لوگ آدھی رات سےسحری کھا کر بیٹھ جاتے ہیں ، اتنی جلدی سحری کھانا شریعت کے منشاء اور سحری کے مقاصد کےخلاف ہے ۔ کوئی معذوری اور مجبوری ہو تو علیحدہ بات ہے ۔ جب صبح صادق کا وقت قریب ہوتو اس وقت سحری کھانی چاہیے اور صبح صادق سے پہلے ہی سحری سے اطمینان کے ساتھ فارغ ہوجانا چاہیے۔(شرح البدایہ و ردّ المحتار)

بعض لوگ ‘سحری کھانے کے لئے اُٹھتے تو ہیں مگر فجر کی نماز پڑھے بغیر ‘سحری کھا کر سوجاتے ہیں ، اس طرح رمضان میں بھی اُن کی فجر کی نماز قضاء ہوجاتی ہے ۔ یاد رکھیئے! اس طرح سحری کی سنت ادا کرکے فجر کے فرضوں کو قضاء کرنا جائز نہیں ۔ (ماہ ِ رمضان کے فضائل و احکام )

سحری کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ علامہ بدرالدین عینی نے تقریباً سترہ صحابہؓ سے اس کی فضلیت کی احادیث نقل فرمائی ہیں اور اس کے مستحب ہونے پر اجماع نقل کیا ہے ۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ) حضرت انس بن مالکؓکا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سحری کھایا کروکیونکہ سحری میں برکت ہے ۔ (متفق علیہ) حضرت عمر و بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں صرف سحری کھانے کا فرق ہے۔‘‘ (مسلم ، ترمذی ، ابو داؤد) اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اور یہود و نصاریٰ کے روزوں کے درمیان پایا جانے والا فرق و امتیاز اس کھانے کو قرار دے رہے ہیں، جو مسلمان سحری کے وقت کھاتے ہیں، کیوں کہ اہل کتاب سحری نہیں کرتے اور مسلمانوں کے لیے سحری کرنا ، سنت مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایک جانب یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، تو دوسری جانب اس میں سنت کی مکمل پیروی کا مظاہرہ، جس میں برکت اور خیر ہی مضمر ہے، جیسا کہ سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ جب کہ اہل کتاب کا روزہ نصف شب سے شروع ہوتا ہے، اس لیے وہ نصف شب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں اور سحری کے وقت نہیں کھاتے۔ چنانچہ شریعت یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان حد فاصل قائم کی جائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کی خیریت اور اس کی بھلائی کو سحری اور افطار کے عمل اور افطار میں تعجیل (جلدی) اورسحری میں تاخیر پر موقوف فرمایاہے ، یعنی افطار اور سحری کے عمل اوراس میں سنت یعنی افطارمیں جلدی اور سحری میں تاخیر ،یہ امت کے لئے خیر وبرکت اور اس کی بہتری وبھلائی کے باعث ہیں ۔ 

امت کی بہتری سحری کے عمل میں ہے ۔ ارشاد نبوی ﷺ :’’ جب تک لوگ افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کریں گے ــتووہ خیر اور بھلائی پر رہیں گے ۔‘‘ (صحیح مسلم : باب فضل السحور)ایک حدیث میں ہے:’’بیشک اللہ تعالی سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کےلیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ ‘‘ ( مسنداحمد) حضرت ابوسعیدؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’سحری کرنا سراپا برکت ہے، لہٰذا اسے نہ چھوڑو، اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ذریعے ہی ہو۔ اللہ اور فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔‘‘(مسند ، امام احمد بن حنبل )

ان احادیث میں سحری سے مراد وہ کھانا ہے جو روزے دار اس وقت کھاتا ہے۔ کیونکہ سحری کھانے سے روزے دار کو روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سارا دن آسانی سے گزر جاتا ہے؛ نیز سحری تناول کرنا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق کا باعث ہے۔سحری بلاشبہ اہم اور مہتم بالشان عمل ہے۔ روحانی فیوض و برکات سے قطع نظر سحری دن میں روزے کی تقویت کا باعث بنتی ہے۔ اس کی وجہ سے روزے میں کام کی زیادہ رغبت پیدا ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں سحری کا تعلق رات کو جاگنے کے ساتھ بھی ہے کیونکہ یہ وقت ذکر اور دعا کا ہوتا ہے جس میں اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور دعا اور استغفار کی قبولیت کاباعث بنتا ہے۔