ستیش وملؔ کی شاعری میں صوفیانہ رنگ بھی!

ہزار برق گرے، لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کِھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
یوں تو وادئ گلپوش میں بہت سارے قلمکاروں، شاعروں،مصنفوں کے علاوہ صوفی بزرگوں اورسنتوں نے جنم لیا ہے اور اپنی ذہانت، شاعری اور فلاسفی کی وجہ سےپوری دنیا میں کشمیر کا نام روشن کیا ہے، آج بھی یہاں مانے جانے شاعر ترجمہ کاراور قلمکار موجود ہیں جو اپنی قلمکاری ، شاعری اور ترجمہ کاری کی وجہ سےمشہور ہیں۔ انہی میں سے ترال علاقے سے تعلق رکھنے والے میانہ قد ، خوش باش شخص، خوبصورت چہرے پر خوبصورت کالی داڈھی اور نرم لب ولہجہ رکھنے والے ایک نہایت ہی شریف، درویش صفت انسان،بہترین شاعر، معروف نقاد، مترجم اور براڈکاسٹر ستیش ومل سے کون واقف نہیں ہے،جن کی شاعری نہایت ہی دل لبھانے والی شاعری ہے۔ آپ کی شاعری میں دردوکرب اور انسان دوستی کے ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی مل رہا ہے، آپ کی شاعری میں روحانیت اور جدیدیت پنپ رہی ہے ،بحیثیت ادیب آپ کا شمار دنیا بھر کے مشہور و معروف شاعروں میں ہوتا ہے۔ آپ کی شاعری میں بھر پورشاعرانہ صلاحیت دیکھنے کو مل رہی ہے ،استعارات،تشبیہات ومعنوی اورعروضی اعتبار سے آپ کی شاعری قابل داد ہے۔ تنقیدی زاویے سے اگر دیکھا جائے تو ستیش ومل کی شاعری کو خلیل جبران کی شاعری سے موازنہ کیا جائے تو کوئی ناکارہ بات نہیں ہے کیونکہ خلیل جبران کی شاعری کی طرح آپ کی شاعری میں بھی صوفیانہ رنگ چھلک رہا ہے۔ جب کوئی شاعر، قلمکار یا نقاد عوام کے سامنےاپنی تخلیقات یا تنقید پیش کرتا ہے تو اس کا کوئی مطلب ومقصد ضرور ہوتا ہے، چاہے اس کا عزت نفس ہو یا خود کی شہرت یااور کوئی مقصد! مگر کبھی کبھار انکی تخلیقات میں ان کی اپنی رائے حائل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے انکی تخلیقات ادبی یا عوامی حلقوں میں زیادہ دیر تک اثر انداز نہیں رہ جاتی ہیں اور ایسی کئی تخلیقات نشر ہوتے ہی زندہ درگور ہوجاتی ہیں مگر ستیش ومل کے تخلیقات،تنقیدی جائزے اور تراجم کی بات اور ہے۔ ان کی شاعری میں وہی مٹھاس، وہی چاشنی موجود ہوتی ہے جو مٹھاس اور چاشنی انکے لب ولہجہ میں ہے، یہی وجہ ہے کہ انکی تخلیقات اور ادب پاروں کو ادبی دنیا میں پسند کیا جارہا ہے۔ آپ نے ریڈیو کشمیر سرینگر سے شیخ العالم شیخ نورالدین ولی ؒاور لل دید پرجو پروگرام نشر کئے، ان کو عوامی حلقوں میں کافی پزیرائی حاصل ہوئی کیونکہ ان کا طرزِ تکلم بھی عالمانہ ہے۔آپ نے ان پروگراموں کو اس انداز سے پیش کیا، جس کی مثال آج تک کہیں نہیں مل رہی ہے۔ آپ نے ان پروگراموں کو نئے انداز اور نئے پیرائے میں پیش کئے،آپ وادئ کشمیر کے ایک بے باک، نڈر اور صاف گو شاعر، محقق، نقاد، قلمکار، مترجم اور سپوت ہیں، آپ نے بلا کسی مذہب وملت ورنگ ونسل اردو وکشمیری زبان وادب کی آبیاری کی اور ان کی خدمت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ راقم نے ابھی تک ان کی صرف کچھ ہی تصانیف کا مطالعہ کیا ہے مگر ان تصانیف نے میری سوچ بچار کے دریچے وا کئے اور مزید تصانیف کا مطالعہ کرنے کا شوق حاصل ہوا۔آپ نے اپنی شاعری میں خالص کشمیری الفاظ اس طرح سے استعمال کئے ہیں جس طرح ایک سُنار اپنی کاریگری سے انگوٹھی میں نگینہ بھر کر اپنی کاریگری کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ایک طرف اس انگوٹھی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے مگر دوسری طرف اس کے کاریگر کی کاریگری کو داد مل رہی ہے ،اتنا ہی نہیں بلکہ آپ کی اردو زبان دانی بھی قابل توجہ وقابل اعتبار ہے یا یہ کہا جائے کہ آپ کے پاس الفاظ کا ایک منبع ہے ،جس کی وجہ سے آپ کی شاعری کا نکھار اور بھی بڑھ جاتا ہے ۔دراصل جو شاعری شاعر کے دل کو کرید کر نکل جاتی ہے، اس کا اثر سامعین یا قارئین پر بہت دیر تک رہتا ہے اور ایسی شاعری ان کے دلوں کو چھو جاتی ہے۔آج کل ایسی شاعری کا ملنا محال ہے ۔اگرچہ کئی شاعر ایسے بھی ہیں جن کے خیالات اور تخیلات بلند ہیں مگر ان کے ناموں کو انگلیوں پرگِنا جاسکتا ہے،ان میں سے میرے اس محسن قلمکار ستیش ومل کا نام سرفہرست ہے ۔ستیش ومل صرف شاعری،قلمکاری اور تنقید نگاری میں ہی اعلیٰ نہیں بلکہ آپ سماجی کارکن ہونے کی حیثیت سے بھی اعلیٰ ہیں، آپ اخلاقیات میں بھی بہت آگے ہیں۔میں ستیش ومل جی کو ایک دہائی سے جانتا ہوں مگر شرف ملاقات سات آٹھ بار ہی حاصل ہوئی۔آپ کا ملنا جُلنا،آپ کا تبسم، آپ کا تکلم ، خندہ پیشانی سے پیش آنااور علیک سلیک !!ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے آپس میں دہائیوں پرانے مراسم ہیں۔آپ کی سادگی نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور بار بار یہ شعر میرے دل ودماغ میں گونج رہا ہے کہ
اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا 
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
ستیش ومل کو اگرچہ کئی بار انعامات سے نوازا جاچکا ہے مگر سب سے بڑا انعام جوان کو عوامی حلقوں سے مل رہاہے، وہ یہ کہ آپ کےنام سے وادی کشمیر کے چھوٹے سے چھوٹے بچے بھی واقف ہیں کیونکہ آپ ان کشمیریوں کےلیے ایک دانشگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کےلئے آپ سے بڑھ کر کوئی انسانی وسیلہ نہیں ہے،جو ریڈیو پر ان کے پروگرام سنتے اور پسند کرتے ہیں، خاص طور سے ان علاقوں کے لوگوں کےلئے جو دوردراز علاقوں میں رہ رہے ہیں اور جن کا وسیلہ جانکاری صرف ریڈیو ہی ہے ۔ایک اور بات یہ ہے کہ جب عوام کو کسی کی بات، کسی کی ادا یا کسی کاطرز تکلم پسند آتا ہے تو وہ ان کی آواز کو سننے کےلئے بے چین ہوتے اور سننے کےلئے تگ و دو بھی کرتےہیں، یہی وجہ ہے کہ دور دراز علاقوں سے وابستہ لوگ ستیش ومل کی آواز کو آج بھی آل انڈیا ریڈیو کشمیر سے سننے کےلیے ہروقت تیار رہتے ہیں۔ ستیش ومل نےآج تک لگ بھگ دسیوں کتابیں تالیف کی ہیں جن میں واریاہ ژأنگی چِھ زالنی،سیاہ ور، ونیش کا وجیتا(جس کی رسم رونمائی ممبئی میں کی گئی تھی)اور عوامی وادبی حلقوں میں اس کی پزیرائی ملی ،کے علاوہ پنتیس ملکوں کےہمعصر شاعروں کے کلام کو "دگ چھے کُنی" کشمیری زبان میں ترجمہ کرکے ہمارے سامنے مختلف ملکوں کے شاعروں کو پڑھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔وقت چھل،وُنل تہ سریہ اور تینگل بھی انہی کے شاہکاروں میں کئی شاہکار ہیں اور بہت ساری کتابوں کا کشمیری میں ترجمہ کرکے کشمیری زبان و ادب میں ایک اور سنگ میل کو عبور کیا ہے یعنی آپ کشمیری،اردو اور ہندی زبانوں کو پروان چڑھانے کےلئے انتھک کوششیں کرتے رہے، آپ کی انہی انتھک کوششوں کی وجہ سے آپ کو 2004میں جموں وکشمیر گورنر کی طرف سے گاندھین فلاسفی کو پروان چڑھانے کےلئے بہترین کارکردگی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2011میں جموں وکشمیر کلچرل اکیڈمی آف آرٹ کلچر اور لینگویجزکی طرف سے سٹیٹ ٹرانسلیٹر ایوارڈ، 2012میں بہترین کشمیری ترجمہ کاری کےلئے ساہتیہ اکیڈمی کی طرف سے ایوارڈ،لسہ کول ایوارڈ برائے قومی یکجہتی 2014 اور منسٹری آف ہیومن ریسورس گورنمنٹ آف انڈیا کی طرف سے 2017میں بہترین کتابی ایوارڈ سے نوازا گیا۔آپ کی شاعری تاریخی اور روحانی اعتبار سے بھی لازوال ہے ۔یہاں اکثر یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ تنقید نگار کسی شاعر یا قلمکار کی تنقید اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس کو پست دکھایا جائے مگر ستیش جی اس جھنجٹ سے بھی پاک نظر آرہے ہیں ۔آپ نے اگر کہیں پر تنقید بھی پیش کیا ،وہ صرف شاعر کی شاعری کو نکھارنے کےلئے کیا یعنی تنقید برائے تعمیر آپ کا معمول بن چُکاہے۔ستیش ومل اردو وکشمیری زبان وادب کےلئے جواہر کی حیثیت رکھتے ہیں، جب بھی ان سے ملنے کوئی جارہا ہے تو ان کے ماتھے پر بل نہیں آتی ہے یعنی آپ کبھی بھی نہ ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور آپ کی ملاقات کےلئے آپ کے شیدائیوں کا تانتا بندھا رہتاہے۔ آخر پر میں ستیش ومل جی کےلئےایک شعر پیش کرنے جارہا ہوں کہ
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دِیے میں جان ہوگی وہ دِیا رہ جائے گا
(رابطہ۔7006259067)