سب کا اپنا ایجنڈا اور عوام تشدد کے سپرد

فدائین حملے ،عسکری معرکے ، حد متاکہ پر شہریوں کا قتل عام ، خواتین کی چوٹیاں کاٹے جانے کے روزمرہ کے واقعات ، مجرموں کو پکڑنے میں محکمہ پولیس کی بے بسی ،نوجوانوں کا لاپتہ ہونا اور پھر ان کی سرکٹی لاشیں ملنا ، ہیبت ناک افواہیں ،سنگ بازیاں ، دفعہ35اے اوردفعہ 370کیخلاف عرضیاں ، سٹیٹ سبجیکٹ کو ختم کرنے کے اندیشے ، نائب وزیر اعلے ٰکا ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے عزم کا اظہار ،مخلوط سرکا ر کی ناکامیاں اور نامرادیاں ، این آئی اے کے چھاپے ، اقتصادی بحران ، نئی نسل کی بے چینی ،بے تہاشا گرفتاریاں ، پیلٹ کا قہر اور گولیاں یہ آج کی وہ گھناونی تصویر ہے جو جموں و کشمیر کے شہری کی مجبور اور لاچار زندگی کا کھلا اشتہار ہے۔
ان عذابوں میں جینے کا نام کیا زندگی ہے ؟ زندگی کے نام پر یہ توہین اورتذلیل کیوں کشمیرمیں پیدا ہونے والے انسان کاہی مقدر بن گئی ہے۔نامعلوم بندوق بردار ، چوٹیاں کاٹنے والے نامعلوم ہاتھ ، عدم شناخت لاشیں کیوں اسی سرزمین کے انسانوں کو اشکوں کی سوغات دے رہے ہیں۔کیا ہندوستان اس کا ذمہ دار ہے ، کیا پاکستان کا اس میں ہاتھ ہے ، کیاخود اس ریاست کے باشندے اس کے ذمے دار ہیں ۔ کیا یہ مزاحمتی تحریک کی دین ہے ۔ کیا یہ بندوق تھام لینے کی سزا ہے ۔یہ سوالات ہر ذہن کی الجھن ہیں لیکن فضائیں اس قدر مکدر ہیں کہ ان سوالوں کو زبان پر لانے میں بھی خوف اور ڈر مانع ہے ۔ سوال ہر روز اور ہر لمحے پیدا ہوتے ہیں اور دلوں و ذہنوں کی گہرائیوں میں ہی دفن ہوکر رہ جاتے ہیں ۔
ہندوستان کی بے وفائیاں اور وعدہ خلافیاں ، کشمیریوں کے بھروسے ، اعتماد اور امیدوں کی قیمت پر کشمیر کواٹوٹ انگ بنانے کی ضد ، کشمیر یوں کے سروں کی قیمت پر بھارت کو کشمیر میں شکست دینے کی پاکستان کی کوششیں اور سازشیں ، کشمیر یوں کی لاشوں پر اقتدار حاصل کرنے کی قومی دھارے کے لیڈروں اور جماعتوں کی کشمکش ، مزاحمتی قیادت کی سیاسی ناعا قبت اندیشیاں ، آزادی کا سنہرا خواب ، انسانی جانوں کی بے قدری اور خود کشمیر کے باشندوں کی سوچ کی پستی ایک ایسے موڑ پر حالات کو پہنچا چکی ہے جہاں ہر کامیابی اور ہر حصولیاں سراب بن چکی ہے۔مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے ہم جدوجہد کررہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیر حل کرنے پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ۔خود ہم ہندوستان اورپاکستان سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کریں تاکہ ہمیں آزادی نصیب ہو لیکن ہندوستان اور پاکستان یہ مسئلہ حل کرنے کے بجائے اسی مسئلے پر ایک دوسرے کو ہرانے کے درپے ہیں ۔اب تک وہ نہ تین جنگجوں میں ایک دوسرے کو ہرا سکے اور نہ ہی بات چیت کی میز پر ایک دوسرے کو زیر کرسکے ۔ایک صدی کی نفرتوں کے لاوے پر افہام و تفہیم کی شمع جلانا دونوں میں سے کسی کے بھی تصور میں نہیں ہے ۔دونوںایٹمی قوتیں ہیں اس لئے ایک دوسرے کی برابری پر کھڑے ہیں ۔حد متارکہ اور بین الاقوامی سرحد پر ایک دوسرے کے فوجیوں اور شہریوں کا خون بہا رہے ہیں اور عالمی فورموں پر ایک دوسرے کو ذلیل و رسوا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں ۔بھارت کشمیر میں امن کا ہتھیار ہاتھ میں لیکر پاکستان کو زیر کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کشمیر میں بے چینی اور انسانی حقوق کی پامالی کا ہتھیار لیکر ۔عالمی طاقتیں اس ٹکراو میں اپنے مفادات کو ڈھونڈ رہی ہیں ۔اقوام متحدہ کسی قرارداد کا ذکر تک کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ عالمی سوچ یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان یہ تنازعہ آپسی مذاکرات کے ذریعے حل کریں ۔پاکستان کی سوچ یہ ہے کہ بھارت کی رگوںسے کشمیر میں عسکری معرکوں ، فدائین حملوں اور عوامی مزاحمت سے خون نچوڑا جائے تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر آکر برابری کی بنیاد پر بات کرنے کو تیار ہو جائے ۔ بھارت کی سوچ یہ ہے کہ فوج کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیکر جنگجووں کا خاتمہ کرنے اورعوامی مزاحمت کو دبانے کے قابل بنایا جائے۔ بین الاقومی سطح پر پاکستان پر سیاسی اور سفارتی سطح پرجس حد تک ممکن ہو دباو پیدا کیا جائے اور پاکستان کیخلاف سخت موقف اختیار کیا جائے ۔کشمیر میں علیحدگی پسند قیادت کا قافیہ حیات تنگ کیا جائے ۔حوالہ چینلوں کا سراغ لگایا جائے اور پیسے کی آمد کے راستے بند کردئیے جائیں۔اس طرح دونوں ایٹمی قوتیں کشمیر کی زمین کو درپردہ جنگ کے میدان اور کشمیر کے باشندوں کو خام مال کی طرح استعمال کررہے ہیں ۔
 جموں و کشمیر کی ریاست کے باشندے بھی اس جنگ میں دونوں کے ساتھ شامل ہیں ۔جموں کی ہندو آبادی بھارت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیر کی مسلم آبادی مین سٹریم اورعلیحدگی پسندی کے خیموں میں بٹی ہوئی ہے ۔علیحدگی پسند وں کے اندربھی الحاق پاکستان اور خود مختار کشمیر کی تقسیم موجود ہے لیکن بھارت کے خلاف دونوں متحد ہیں ۔لداخ کی بودھ آبادی بھی ہندوستان کے ساتھ کھڑی ہے ۔تاہم کشمیر کی وادی میں مجموعی طور پر پوری آبادی میں بھارت کے خلاف غم و غصہ بھرا ہوا ہے ۔اس کی وجوہات تاریخ کے ہر دور میں موجود ہیں اور تجزبہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان کااقتدار ہی کشمیریوں کی جذباتی علیحدگی کا باعث بنا ہے ۔
ایسے حالات میں کوئی ایسی آواز نہیں جو کشمیر کے درد کو بیان کرسکے ۔کشمیر گزشتہ ستائیس سال سے تباہی ، بربادی اور ظلم و ستم کے پہاڑ جھیل رہا ہے ۔ انسانی زندگیا ں حیوانوں سے بھی زیادہ بے وقعت ہوکر رہ گئی ہیں  ۔ برصغیر کا ایک مثالی معاشرہ بیمار ہوکر رہ گیا ہے ۔ساری قدریں پامال ہوگئی ہیں۔سوچ بدل چکی ہے ۔ نفسیات بدل چکی ہے ، رحجان بدل چکے ہیں اور اصول بدل چکے ہیں اور نظریات بدل چکے ہیں ۔یتیموں ، بیواوں اور ناداروں کی ایک نئی دنیا پیدا ہوچکی ہے ۔ جو نسل گولیوں کی گن گرج ، کرفیو اور ہڑتالوں کے درمیان پیدا ہوئی ہے وہ متعدد ذہنی اور جسمانی پیچیدگیوں کی شکار ہے ۔ چالیس فیصد کے قریب نوجوان مختلف نفسیاتی بیماریوں میںمبتلا ہیں ۔ نشہ آور اشیاء کا استعمال خوفناک حد تک بڑھ چکا ہے ۔بے چینی ، بداعتمادی اور پراگندگی نے شخصیت کی فطری ساخت ہی تبدیل کردی ہے ۔اس کا نتیجہ آگے چل کر کیا ہوگا اس پر کوئی سوچنے کے لئے تیار نہیں ۔کوئی ہمدرد ہوتا تو سوچتا ، کوئی غمگسار ہوتا تو توجہ دیتا ، سب اپنے اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے میں مصروف ہیں ۔ہندوستان کا اپنا ایجنڈا ہے ، پاکستان کا اپنا ایجنڈا ہے ، مین سٹریم جماعتوں کا اپنا ایجنڈا ہے ۔ مخلوط حکومت کی دونوں جماعتوں کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے اور مزاحمتی قیادت کا اپنا ایجنڈا ہے ۔کوئی اپنے ایجنڈے کے حصار کو توڑ کر کشمیر کو سمجھنے کی کوشش کرنے کیلئے تیار نہیں ۔نہ اب ہندوستان میں ایسے لوگوں کا وجود کوئی معنی رکھتا ہے جو انسانی قدروں کی بات کیا کرتے تھے ۔ انتہا پسندی کے عروج نے انہیںایسی پستیوں میں ڈال دیا ہے جہاں سے وہ باہر نہیں نکل پاتے ۔دائیں بازو کی وہ جماعتیں بھی اب بات کرنے سے کترارہی ہیں جو کبھی انسانی
 قدروں کا ڈھول پیٹا کرتی تھیں ۔لے دے کے ہندوستا ن میں اب صرف ایک آواز باقی رہ گئی ہے وہ بی جے پی کے بے اختیار لیڈر یشونت سنہا کی آواز ہے جو پکار پکار کرکہہ رہی ہے کہ کشمیر کے درد کوسمجھو ، کشمیریوں کو پہچاننے کی کوشش کرو ، کشمیریوں سے بات کرو لیکن ان کی آواز صدا بہ صحرا ہے ۔کوئی اس آواز کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔پیلٹ کے استعمال کو روکنے کی کوئی زور دار آواز نہیں ۔ خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے خلاف کوئی زبان کھولنے کی جرات کرنے کے لئے تیار نہیں ۔پاکستان میں بھی کوئی ایسی آواز نہیں جو کشمیر یوں کی تباہی اور بربادی کے لئے دو آنسو ہی بہالیتی ۔وہاں کشمیریوں کی قربانیوں کی کو دیکھا جاتا ہے ان کے عذابوں کو نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کشمیری کب تلک اس طوفان کو سہتا رہے گا جو کسی بھی قوم کو فنا کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ ہر طرف یلغار ہے ۔ عسکریت پسند بھارتی فورسز کے ساتھ برسر پیکار ہیں ۔ وہ آبادیوں کے اندر موجود ہیں اور فورسز کا عتاب و عذاب آبادیوں پر نازل ہوتا ہے ۔ اور اس عذاب و عتاب کی کوکھ سے بھارت کیخلاف نفرت کا لاواجنم لیتا ہے جو عسکریت پسندی اور علیحدگی پسندی کی آگ کو اور زیادہ بھڑکا دیتا ہے۔عوام ہاتھوں میں پتھر لیکر فورسز کیخلاف نبرد آزما ہوتے ہیں اور فورسز پیلٹ اور بلٹ سے انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ طوفان کب تک اور کہاں تک بڑھتا رہے گا ۔کشمیرکے ہزاروں نوجوان جیلوں میں بھرے پڑے ہیں ۔اور کتنے لوگوں کو جیلوں کی کال کوٹھریوں کی زینت بنایا جائے گا ۔بھارت کے اقتدار کا آج کا نظریہ یہ ہے کہ عسکریت کو ختم کرکے کشمیریوں کو زیر کیا جاسکتا ہے ۔ اقتدار کے ایوانوںمیں ایسی سوچ موجود ہی نہیں ہے کہ کشمیر کا اصل مسئلہ عسکریت نہیں بلکہ وہ غم و غصہ ہے جو آبادی کے جذبات کے اندر سرایت کرچکا ہے۔ عسکریت کو ختم کرکے وہ غصہ ختم کیسے ختم ہوسکتا ہے ۔ 
حتمی سوچ یہ ہے کہ پاکستان کشمیر کی بے چینی کی اصل وجہ ہے ۔ پاکستان جنگجو بھیج رہا ہے ، ہتھیار دے رہا ہے اور پیسے فراہم کررہا ہے لیکن ساٹھ اور ستر کی دہائی میں نہ کشمیر میں کوئی جنگجو تھا نہ پاکستان کی کشمیر میں اتنی رسائی تھی پھر بھی ایک مضبوط علیحدگی کی تحریک یہاں موجود تھی۔اس وقت بھی گولیاں چلانی پڑ رہی تھیں اور عوامی مزاحمت کو دبانے کے حربے اختیار کرنے پڑرہے تھے ۔اُس وقت بھی ہندوستان کی سوچ غلط تھی اورآج اس سے بھی زیادہ غلط ہے ۔یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی جارہی ہے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے خود کشمیر ی ہی تباہ ہورہا ہے لیکن اسے اپنی تباہی کی کوئی فکر نہیں بلکہ اس عزت و وقار کے کھوجانے کا افسوس ہے جو اس سے جبراً چھین لیا گیا ہے ۔ 
کیوں نہ اس کا وہ عزت و وقار بحال کرکے دیکھ لیا جائے ۔کشمیر کی مزاحمتی قیادت میں وہ دم نہیں ہے کہ وہ سیاسی تحریک کو اس قوت اور تنظیم کے ساتھ چلائے کہ تشدد کی بہت کم ضرورت باقی رہے ۔ قیادت کچھ نہیں کررہی ہے جو کچھ کررہے ہیں عوام ہی کررہے ہیں اور ان کے پاس تشدد کے سوا اور کوئی چارہ ہی باقی نہیں رہنے دیا جارہا ہے ۔
مسئلہ کشمیر کاحل کسی کے پاس نہیں ہے ۔ نہ عالمی برادری کے پاس نہ پاکستان کے پاس اور نہ ہی ہندوستان کے پاس ۔ یہ مسئلہ ایک انتہائی پیچیدہ اور الجھا ہوا مسئلہ ہے ۔ نہ جنگ اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے نہ بات چیت اب تک اس مسئلے کو حل کرنے کی راہیں تلاش کرسکی ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ وہ مسئلہ نہیں جس کی شکل اسے دی گئی ہے ۔ریاست کی جغرافیائی تقسیم ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ ہوسکتی ہے لیکن اصل میں یہ مسئلہ کشمیرکے عوام کا ہے اور عوام کے پاس ہی اس کا حل بھی موجود ہے ۔کشمیر کے عوام کے جذبات اور احساسات کو سمجھنے کی کوشش میں ہی اس کا حل پوشیدہ ہے۔کشمیریوں کا اعتماد حاصل کرکے انہیں دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان ایک پل بنایا جاسکتا ہے ۔ مزاحمتی قیادت یہ کردار ادا کرسکتی ہے لیکن اس طرح کا کردار ادا کرنا اس کے ایجنڈے میں شامل نہیں ۔ یا اس کی نظر میں اتنی وسعت نہیں کہ وہ اس طرح کا کردار ادا کرنے کا ارادہ کرے ۔ مزاحمتی قیادت پاکستان اور ہندوستان دونوں کو مذاکرات کی دعوت دے سکتی ہے ۔ دونوں کوایک حل پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ حل کا تصور اس کا ہی ہوسکتا ہے اور اس پر دونوں کو راضی کرنے کے لئے وہ جدوجہد کرسکتی ہے ۔ وہ دونوںمیں سے کسی ایک کو دشمن تصور کرکے ایسا نہیں کرسکتی بلکہ دونوں کو یکساں فریق سمجھ کر ایسا کرسکتی ہے ۔ 
 بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم