سبزی منڈی بانہال کے آگ متاثرین 110 دن گزر جانے کے باوجودامداد سے محروم آگ کی واردات کے بعد بہت سارے وعدے اور سیاست کی گئی مگر مدد نہ کی گئی:متاثرین

محمد تسکین
بانہال// رواں سال 4 اور 5 فروری کی رات جموں سرینگر قومی شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال کی سبزی منڈی مارکیٹ آگ کی ایک ہولناک واردات میں اکھوں روپئے مالیت کے مال و اسباب سمیت خاکستر ہوگئی تھی اور 80 کے قریب غریب دھاڑی دار چھاپڑی فروشوں کا روزگار ختم ہو گیا تھا۔آگ کی واردات رونما ہونے کے فوراً بعد اس پر نہ صرف خوب سیاست کی گئی تھی بلکہ ضلع اور تحصیل انتظامیہ کے علاؤہ تمام سیاسی جماعتوں ، لیڈروں اور ضلع ترقیاتی کونسل رام بن کی چیئرپرسن اور کونسلروں نے متاثرین کی ہر ممکن مدد کیلئے دن رات ایک کرنے کا دم بھرا تھا مگر اب آگ کی واردات کو چار مہینے کا وقت پورا ہونے والا ہے لیکن ابھی تک متاثرین کی کسی بھی قسم کی کوئی سرکاری مدد نہیں کی گئی ہے اور اب قرض فرض کرکے متاثرین اپنے بل بوتے پر اپنی روزمرہ کی کاروباری سرگرمیوں کو شروع کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔

لکڑی اور ٹین کے شیڈوں میں اپنا روزگار کمانے والے طارق احمد سمیت کئی متاثرین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ سبزی منڈی بانہال کی مارکیٹ میں آگ کی واردات میں سب سے زیادہ نقصان چھوٹے چھوٹے شیڈوں میں اپنا روزگار کمانے والے ریڈی میڈ گارمنٹس ، کراکری ، کریانہ اور سبزی و پھل وغیرہ بیچنے والوں کا ہوا ہے اور اگ کی اس بھیانک واردات میں اپنے اہل و عیال کیلئے روزگار کمانے والے ہر متاثر کا تین سے چار لاکھ روپئے کا نقصان ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور سیاستدانوں کی یقین دہانیوں کے چار مہینے بعد بھی ان کی سرکاری سطح پر کوئی مدد نہیں کی گئی ہے اور متاثرین نے قرض لے لے کر اپنے بل بوتے پر ٹین کے شیڈ دوبارہ کھڑے کئے ہیں اور اپنا روزگار کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فروری کے پہلے ہفتے میں پیش ائی آگ کی اس واردات میں بیشتر ٹین اور لکڑی سے بنے 80 کے قریب ڈھانچے مکمل طور سے تباہ ہوئے تھے اور یہاں سبزی اور پھل فروشوں کے علاؤہ ریڈی میڈ کپڑوں ، کریانہ ، کاسمیٹکس اور کراکری کی چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں اور بیشتر دکانیں مکمل طور سے تباہ ہوگئی تھیں اور کسی کا کچھ بھی سامان بچایا نہیں جاسکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے نام پر بہت سیاست کی گئی مگر مدد اور تعاون کے وعدے وفا ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔سبزی منڈی بانہال کے صدر عبد الرشید تانترے نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود اب تک کسی بھی متاثرہ چھاپڑی فروش کی کوئی مدد نہیں کی گئی ہے اور تمام متاثرین اپنا روزگار شروع کرنے کیلئے قرضوں کے بوجھ کے نیچے آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ڈی ڈی سی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشادہ شان نے پچاس ہزار روپئے ، سخاوت سینٹر جموں و کشمیر کی طرف سے سے ڈیڑھ لاکھ روپئے اور ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کی طرف سے ایک لاکھ روپئے کی مدد کی گئی ہے اور کل ملاکر جمع ہوئی تین ساڑھے تین لاکھ کہ مجموعی رقم کو 70 سے زائد متاثرین میں برابر برابر تقسیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک حکام کے تمام وعدے ثراب ثابت ہوئے ہیں اور متاثرین ابھی بھی سرکاری مدد کے منتظر ہیں۔