سانحہ گائو کدل کی 31ویں برسی | سیول لائنز میں ہڑتال ، دکانیں بند

 سرینگر // 30برس قبل پیش آئے سانحہ گائو کدل کے خلاف سیول لائنز علاقوںمیں ہڑتال کی گئی جس کے دوران کاروباری ادارے بند رہے ۔اس دوران گائو کدل بسنت باغ میںدعائیہ مجلس کا اہتمام ہوا۔21جنوری 1990کو گائوکدل سانحہ پیش آیا جس میں فورسز کی فائرنگ سے 52شہری مارے گئے۔ گائو کدل سانحہ کی31ویں برسی پر مائسمہ، لالچوک، آبی گزر میںدکانیں بندتھیں اورگاڑیوںکی نقل و حمل بھی متاثر ہوئی۔ سانحہ گائو کدل کی برسی پر انتظامیہ نے گائوکدل اور مائسمہ میں فورسز کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی تھی۔ 26جنوری کی آمد کے سلسلہ میں بھی لالچوک اور مضافاتی علاقوںمیں فورسز اہلکار گاڑیوںکو روک کر تلاشی لی جبکہ راہگیروں کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے اور جامہ تلاشی لی۔ (سی این آئی)
 

سانحات پر روا رکھی گئی بے حسی تکلیف دہ: حریت (ع)

سرینگر//حریت (ع)نے گاو کدل سانحہ کی31 ویں برسی پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے گذشتہ 31برسوں سے کشمیریوں کے خلاف اور کشمیر میں ہونے والے متعدد سانحات پر روا رکھی گئی بے حسی کو تکلیف دہ اور بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے۔ایک بیان کے مطابق حریت (ع)نے سانحۂ گاوکدل کے دوران مارے گئے افراد کوشاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ باز پرس اور احتساب سے بالا تر فورسز کو دیئے گئے بے انتہااختیارات اور کالے قوانین کے تحت جموں وکشمیر میں زیر حراست گمشدہ افراد کی بازیابی، بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف پُر امن مظاہروں اور احتجاج کے دوران یا پھر کریک ڈاون اور تلاشیوں کی کارروائیوں کے دوران 1لاکھ سے زیادہ نہتے شہریوں کوگولیوں اور پیلٹ گنوں سے ہلاک کیا گیا۔ بیان میں کہاگیا کہ نہتے شہریوں کو ماورائے عدالت مارا گیا اور ملوث افراد کیخلاف نہ تو باقاعدہ مقدمہ دائر کیا گیا اور نہ ہی انہیں عدالت اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے انہیں سزا دی گئی البتہ عوامی غم و غصے کو دور کرنے کیلئے فوری طور پر’’انکوائریز‘‘ کمیٹی بنانے کے محض اعلانات کئے گئے۔بیان میں کہا گیا شہریوں کے مارے جانے کے ان سانحات کے متعدد واقعات ،جن میں گاو کدل ، حول ، زکورہ، سوپور ، ہندوارہ ، کپواڑہ، بجبہاڑہ، کنن پوشہ پورہ،وندہامہ اور چھٹی سنگھ پورہ وغیرہ شامل ہیں ، مرتکبین کونہ تو کبھی گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ا نہیں عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔حریت (ع)نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے انسانی حقوق کی ان سنگین پامالیوں کا نوٹس لینے کی اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان قتل عام کے واقعات میں معصوم متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جانا چاہئے اور ان سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے انہیں قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر میں ظلم وجبر پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں صورتحال بدستور ابتر ہوتی جارہی ہے جبکہ عالمی برادری یہاں کی سنگین صورتحال کو کسی اور نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے جو حد درجہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔