سال نو کا آغاز : جموں وکشمیر میں چار روز کے دوران ایک درانداز سمیت 6 جنگجو مارے گئے

سری نگر//جموں و کشمیر میں سال نو کا آغاز بھی سیکورٹی فورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان خونین تصادم آرائیوں سے ہوا اور سال کے پہلے چار دنوں کے دوران ہی الگ الگ تصادم آرائیوں میں 6 جنگجو مارے گئے جن میں 2016 سے سرگرم ایک جنگجو کمانڈر بھی شامل ہے۔
 
پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ یکم جنوری 2022 کو سرحدی ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں فوج نے ایک پاکستانی جنگجو کو مار گرایا ۔
 
انہوں نے بتایا کہ مہلوک ملی ٹینٹ کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔
 
اُن کے مطابق 2 اور 3 جنوری کی درمیانی رات کو ارینا سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر دراندازی کی ایک کوشش کے دوران فوج کی جوابی کارروائی میں پاکستانی درانداز ہلاک ہوا اور اُس کے قبضے سے بھی قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا ہے۔
 
پولیس آٖفیسر کے مطابق 3 جنوری پیر کے روز سری نگر کے شالیمار اور گاسو حضرت بل علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ دو الگ الگ تصادم آرائیوں میں لشکر کمانڈرسمیت دو ملی ٹینٹ مارے گئے۔
 
انہوں نے بتایا کہ شالیمار باغ میں ہوئی مختصر جھڑپ میں لشکر طیبہ کا انتہائی مطلوب کمانڈر سلیم پرے ہلاک ہوا۔
 
اُن کے مطابق مہلوک لشکر کمانڈر سال 2016 سے واد ی میں سرگرم تھا اور وہ دو درجن شہری کی ہلاکتوں میں براہ راست ملوث تھا۔
 
مذکورہ آفیسر کا مزید کہنا ہے کہ 4 جنوری بروز منگل کو اوقے کولگام میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 2 ٹی آر ایف ملی ٹینٹ مارے گئے۔
 
اُنہوں نے کہا کہ مہلوک ملی ٹینٹوں کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اور وہ سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اُنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پیش پیش تھے۔
 
پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وادی بھر میں سرگرم ملی ٹینٹوں اور اُن کے معاونین کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا ہے جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ ملی ٹینٹوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی خاطر ہیومن انٹیلی جنس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لایا جارہا ہے۔
 
مذکورہ آفیسر کا کہنا ہے کہ سرگرم جنگجووں کے خلاف جاری کامیاب آپریشنز سے ملی ٹینٹ تنظیموں میں حوصلہ شکنی پائی جارہی ہیں ۔
 
اُنہوں نے بتایا کہ شمال و جنوب کے ساتھ ساتھ وسطی کشمیر میں بھی سرگرم ملی ٹینٹوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور وہ دن دور نہیں جب وادی کشمیر میں پوری طرح سے ملی ٹینسی کا پوری طرح سے خاتمہ ہوگا۔