سالانہ اڑھائی ہزار میٹرک ٹن پیدوار کے حامل

نقصان کی بھرپائی کرنے کیلئے جام بنانے والی کمپنیوں سے بات ہوئی :محکمہ باغبانی 

 
 سرینگر //کشمیر میں رواں سال اشٹابری میوہ کی صنعت کو بھی کورونا لاک ڈاون کے نتیجے میں نقصان پہنچ رہا ہے اور گذشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال اس کی خریدی میں 40فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وادی میں اشٹابری میوہ اڑھائی ہزار میٹرک ٹن نکلتا ہے اور یہ بہت مختصر وقت کیلئے تازہ رہتا ہے۔ وادی اور بیرون کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اس سال اشٹابری میوہ کی خریداری میں بھی کمی واقع ہوئی اور اس کو فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے ۔ فروٹ گروورس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پہلے موسمی حالات نے میوہ کی صنعت کو متاثر کیا اور رہی سہی کسر کورونا لاک ڈاون نے نکال دی ہے کیونکہ مارکیٹ میں اس وقت پھل دستیاب ہے لیکن اس کا خریدار نہیں ملتا اور بہت سارا پھل خراب بھی ہو گیا ہے۔ ایسوی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس اشٹابری پھل کا سیزن مئی کے وسط سے شروع ہوتا ہے اور یہ اس وقت آخری آیام میں ہے ۔پہلے یہ پھل موسمی صورتحال کی وجہ سے دوچار ہوا ،جو میوہ بازاروں تک پہنچا تھا اس کی خریداری میں بھی چالیس فیصد کی کمی واقع ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایسا پھل ہے جس کی زندگی زیادہ نہیں ہوتی کیونکہ اس میں پانی کی مقداد زیادہ ہوتی ہے اور یہ 7سے 8گھٹوں تک ہی تازہ رہتا ہے ، لیکن باہر کی جو اشٹابری یہاں آتی ہے اس کی عمر 3سے4دن کی ہوتی ہے۔بشیر احمد بشر نے کہا کہ اس پھل سے وابستہ تاجروں کو اس سال وہ قیمت بھی نہیں مل پائی ،جو ملتی تھی کیونکہ مارکیٹ بند ہیں اور خریدار بھی کہیں نظر نہیں آتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پھل مقامی سطح پر ہی فروخت ہوتا ہے اور اس کا کاروبار باہر نہیں ہوتا ۔ تاہم جو جموں اور دیگر علاقوں تک مال جاتا تھا وہ اس بار جانے سے رہ گیا اور اس وجہ سے بھی کسانوں کو نقصان ہوا۔سرینگر میں حضرت بل کا گاسونامی گائوں، جو کشمیر اشٹابری ولیج کہلاتا ہے، میں سب سے زیادہ اشٹابری کی کاشت ہوتی ہے۔ جبکہ اشٹابری ٹنگمرگ میں بھی اُگائی جاتی ہے۔ ڈائریکٹر باغبانی کشمیر اعجاز احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ اشٹابری میوہ کی عمر زیادہ نہیں ہوتی اور محکمہ نے پہلے ہی ڈویژنل کمشنر کشمیر کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پھل کو فروخت کرنے والوں کو بلیوارڑ روڑ اور نشاط باغ میں دو سپاٹ دئے جائیںتاکہ یہ آسانی سے اس پھل کوفروخت کر سکیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ باغبانی نے ان کو مطلع کیا ہے کہ وہ اپنا مال راج باغ میں محکمہ کے کمپلیکس کے باہر بھی فروخت کر سکتے ہیں ۔اعجاز احمد بٹ نے کہا کہ ہم نے کچھ ایک کمپنی والوں سے بھی بات کی ہے، اگر وہ اس کا جام بنائیں گے تو اس سے ان کو بھی فائدہ ہو گا اور کچھ ایک لوگ جام بنانے کے خواہشمند بھی ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر وادی میں اشٹابری کی کاشت اڑھائی ہزار میٹرک ٹن ہوتی ہے اور کاشتکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس میوہ کے علاوہ اعلیٰ معیار کے درخت بھی لگائیں تاکہ اس سے ان کو مزید فائدہ مل سکے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹابری میں وٹمن سی ہوتا ہے جو پراسٹیٹ اور دوسری بیماریوںکے علا ج کیلئے ہے ۔