سارک کانفرنس میں بھارت کی عدم شرکت

نئی دہلی ہٹ دھرمی کا راستہ ترک کرے: پی ڈی پی

نئی دہلی کی غیر سنجیدگی باعث افسوس: این سی

سرینگر//بھارت کی طرف سے مجوزہ 20ویں سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار کرنے پر ریاست کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے اسے کشمیریوں کی بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے رویے میں لچک پید اکرے۔ ڈی پی کے ترجمان اعلیٰ محمد رفیع میر نے بھارت کی طرف سے مجوزہ سارک سمٹ میں شرکت کرنے سے انکار پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ ترک کرکے اپنے وطیرے میں لچک پیدا کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیرگزشتہ کئی صدیوں سے حل طلب معاملہ رہا ہے لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آکر سلگتے مسائل پر بات چیت شروع کریں۔ رفیع میر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کرتارپور کاریڈور کو سکھ طبقے کے لیے کھولنا ایک احسن قدم ہے لیکن بھارت کی طرف سے ایسے اقدام کی مخالفت سیاسی حربہ ہوسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے کرتارپور کاریڈور کھولنے اور یہاں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کشمیر کا ذکر چھیڑنے پر بی جے بی سرکار کی ملک بھر میں تنقید کا سامنا درپیش ہے لہٰذا عین ممکن ہے کہ سارک سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اپنے ووٹروں کو خاموش کرنے کے لیے لیا گیا ہو۔ادھر نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے بھارت کی طرف سے سارک سمٹ میں شامل نہ ہونے کو کشمیریوں کی بدقسمتی سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کو خلو ص نیت کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے لیکن بھارت کی اس حوالے سے غیر سنجیدگی باعث افسوس ہے۔انہوںنے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ بھارت کا انکار ملک میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر لیا گیا ہو۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کے پیش نظر اس قسم کا فیصلہ ایک سٹریٹیجک فیصلہ ہوسکتا ہے تاکہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی ملک میں پھر سے اقتدار حاصل کرسکے۔انہوںنے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں اور کشیدگی کے نتیجے میں صرف کشمیری عوام پسی جارہی ہے لہٰذا ہندوپاک کی سیاسی قیادت کو اولین فرصت میں بات چیت شروع کرنی چاہیے۔سی پی آئی (ایم ) کے ریاستی لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے نئی دہلی کی طرف سے سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ابتدا سے ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط رشتے قائم ہونے چاہیے جس کے لیے بات چیت ایک بہتر ذریعہ ہے۔ انہوںنے بتایا کہ بات چیت نہ صرف کشمیریوں کے درد کا مداوا بن سکتی ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کو بھی بے حد فائدہ حاصل ہوگا۔