ساتھرہ کا پرائمری سکول کلانی

تنازعہ کے باعث کام2012سے التوا میں،طلباء کھلے آسمان تلے بیٹھنے پرمجبور

 
پونچھ//تحصیل منڈی کے تعلیمی زون ساتھرہ میں واقع پرائمری سکول محلہ کھوراں کلانی چھت کے بغیر کرایہ والی عمارت میں چل رہاہے اور طلاب 8برسوں سے کھلے آسمان تلے بیٹھ کر حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔اس پرائمری سکول میں50سے زائد طلبازیر تعلیم ہیںجن کو بیٹھنے کیلئے محفوظ جگہ فراہم نہیں ۔سکولی طلاب آٹھ برسوں سے محلہ میں ہی ایک کرایہ کی عمارت میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم یہ عمارت کافی خستہ ہے جو موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ۔اس صورتحال سے طلاب کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہورہی ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق محکمہ تعلیم کے سکول کی عمارت کی تعمیر کے لئے اگر چہ 2012 میں اراضی کا اہتمام کیا تھا مگر گائوں کے ہی چند سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والے لوگوں نے اس اراضی کو سیاست کی نذر کر دیا جس کی وجہ سے ابھی تک سکول کی عمارت تعمیر نہ ہو سکی۔ان کاکہناہے کہ دو گروپوں کے درمیان یہ عمارت تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہے اور ایک کاکہناہے کہ سکول ان کی زمین میں بنے تو دوسرا گروپ عمارت کو اپنی زمین میں بنتے دیکھناچاہتاہے اوراس جھگڑے سے متاثر صرف طلباء ہورہے ہیں ۔مقامی شہری پرویز ملک نے بتایا کہ 2012سے پرائمری سکول کے طلبا سکول کے ہی ایک ٹیچرکے نجی مکان میں زیر تعلیم ہیں مگر یہ عمارت غیر محفوظ ہے اور اس کی چھت سے پانی ٹپکتارہتاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کافی مرتبہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کوبھی بتایاگیاتاہم انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔رابطہ کرنے پر زونل ایجوکیشن افسر ساتھرہ پروین اختر نے تصدیق کی کہ گزشتہ کئی عرصہ سے سکول کی عمارت کا معاملہ تنازعہ کاشکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں دو پارٹیاں آپس میں یہ طے نہیں کرپا رہی ہیں کہ سکول کس کی زمین میں بنے جس کی وجہ سے طلباء کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کی اکتیس تاریخ کو اس حوالے سے زمین مالکان کے ساتھ اجلاس رکھاگیاہے جس میں کوئی فیصلہ کرکے تعمیری کام شروع کیاجائے گا۔