سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈیزکا انتقال

سرینگر//آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کے دور ِ حکومت میں وزیر دفاع رہے جار ج فرنڈیز منگل کو طویل علالت کے بعد88برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔آنجہانی ’سول رائٹس ایکٹیوسٹ ‘کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔گورنر ستیہ پال ملک ،عمر عبداللہ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے آنجہانی کو خراج عقیدت پیش کیا  ہے۔واجپئی کی قیادت والی ’این ڈی اے‘ حکومت میں جارج فرنانڈیز1998 سے 2004تک وزیر دفاع رہے۔2004 میں ’تابوت گھوٹالہ‘ سامنے آنے کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بعد میں 2الگ۔ الگ کمیشن آف انکوائری میں انہیں بے قصور قرار دیا گیا تھا۔منگلورو کے رہنے والے جارج فرنانڈویز نے سمتا پارٹی قائم کی تھی۔ وہ 3 جون1930 کو پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کا ایک لمبا وقت مزدوروں کی لڑائی میں لگایا۔ جارج ایک سوشلسٹ رہنما تھے اور ان کو دس زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ جارج فرنانڈیز جن زبانوں کو جانتے تھے ان میں ہندی، انگریزی، تمل، مراٹھی، کننڑ، اردو، ملیالی، کونکنی اور لا تینی زبانیں شامل تھیں۔ ان کا نام جارج فرنانڈیز اس لئے ان کی والدہ نے رکھا تھا کیونکہ ان کی والدہ بادشاہ جارج پنجم کی بہت بڑی مداح تھیں اس لئے ان کے نام پر اپنے سب سے بڑے بیٹے کا نام رکھا تھا۔ انہوں نے ایمرجنسی کے خلاف اپنی آواز بلند کی تھی اور سول رائٹس ایکٹیوسٹ کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔ وہ 1977 سے 1980 کے بیچ مرارجی ڈیسائی کی قیادت والی جنتا پارٹی حکومت میں بھی مرکزی وزیر رہے۔ فرنانڈیز 1950 میں ٹیکسی ڈرائیور یونین کے بڑے رہنما بن گئے تھے۔ اس دوران وریاستی گورنر ستیہ پال ملک،  فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی نے جار ج فرنڈیزکے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ سماج کے پسماندہ طبقوں اور قوم کی خدمت کے لئے آنجہانی کی خدمات لافانی ہے۔اُنہوں نے آنجہانی کی روح کے ابدی سکون کے لئے دعا کی۔