سابق ممبر قانون سازکونسل ترلوچن سنگھ وزیرکو قتل کرنے کاانکشاف

 جموں//جموں وکشمیرسے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قانون سازکونسل ترلوچن سنگھ وزیر کونئی دہلی کے ایک کرایہ فلیٹ میں قتل کرنے کاانکشاف ہوا ہے ،اورپولیس نے ٹی ایس وزیر کی نعش کاپوسٹ مارٹم کرنے کے بعد2 روپوش ملزمان کی تلاش بڑے پیمانے پرشروع کردی ہے اورفرارملزمان کی گرفتاری عمل میں لانے کیلئے دہلی پولیس نے کئی ٹیمیں تشکیل دیکر اُن کو2ٹیموں کوجموں اورامرتسرروانہ کردیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق دہلی پولیس نے جموں و کشمیر کے سابق ایم ایل سی ترلوچن سنگھ وزیر کے قتل کیس میں2روپوش ملزمان ہرپریت اور ہرمیت کو پکڑنے کے لئے تلاشی کارروائی بڑے پیمانے پر شروع کردی ہے۔دہلی پولیس کی مقامی ٹیم اور کرائم برانچ اسپیشل سیل معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اسے کھولنے کے لیے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔پولیس نے ملزمان کی تلاش کیلئے 2الگ الگ ٹیمیں جموں ، اور امرتسر بھیجی ہیں جبکہ سیگر ٹیمیں اس معاملے کی تحقیقات کےلئے دہلی میں ہیں۔دہلی پولیس نے ایک میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا جو وزیر کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرے گا۔دلی پولیس کے مطابق موتی نگرنئی دہلی میں واقع فلیٹ جہاں قتل ہوا تھا، جنوری میں کرائے پر لیا گیا تھا اور مالک مکان کو بتایا گیا تھا کہ اسے 10 ستمبر تک خالی کر دیا جائے گا۔دہلی پولیس کوابتدائی تفتیش سے پتہ چلا کہ قتل کی منصوبہ بندی جولائی میں کی گئی تھی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔پولیس کے مطابق قتل کا محرک صرف اس وقت واضح ہوگا جب دونوں ملزمان ہرپریت سنگھ اور ہرمیت سنگھ کو گرفتار کیا جائے گا۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ملزمان کے موبائل فون بدھ کی شام تک فعال تھے ، جو کال ڈیٹل ریکارڈ (سی ڈی آر) سے سامنے آئے لیکن اس کے بعد سے کوئی معلومات نہیں ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اس قتل کیس میں مفرور ہرپریت سنگھ نے اپنے ایک قریبی دوست کو فون کر کے بتایا تھا کہ دو لوگوں نے وزیر کو رمیش نگر کے علاقے میں قتل کیا ۔پولیس نے کہا کہ جس شخص سے ہرپریت نے فون پر بات کی ،اس نے سابق ایم ایل سی ٹی ایس وزیر کے بھائی کو بتایا جو جموں و کشمیر کا ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہے اور اس نے پولیس کو اطلاع دی۔اس کے بعد ، پولیس نے فوری طور پر ہرپریت سنگھ اور ہرمیت سنگھ کی گرفتاری عمل میں لانے کےلئے سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس کیس کا ایک ملزم ہرمیت سنگھ جموں میں مقتول ٹی ایس وزیر کے گھر کے قریب رہتا تھا۔پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ٹی ایس وزیر اپنی پوتی کی پیدائش کی خبر کے بعد کینیڈا جا رہا تھا۔پولیس نے بتایا کہ ہرپریت سنگھ جانتا تھا کہ ترلوچن سنگھ وزیر کو اپنے بیٹے اور نوزائیدہ پوتی سے ملنے کینیڈا جانا ہے۔روپوش ملزم ہرپریت سنگھ نے سابق ممبر قانون سازکونسل ترلوچن سنگھ وزیر سے ملاقات کی اور اپنا تعارف ایک صحافی کے طور پر کیا اور بتایا کہ وہ ایک اخبار اور ویب سائٹ چلاتا ہے جس کے قارئین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پولیس کے مطابق ، ہرپریت سنگھ ،ٹی ایس وزیر سے اس وقت ملا جب وہ جموں سے دہلی آیا۔ اُس نے ٹی ایس وزیر کو بتایا کہ وہ کینیڈا جانے والی فلائٹ میں سوار ہونے تک اپنے فلیٹ پر رہ سکتا ہے۔دہلی پولیس نے بتایا کہ ہرپریت سنگھ نے ٹی ایس وزیر کو ائیرپورٹ تک پہنچانے کی پیشکش بھی کی۔ دہلی سے فلائٹ میں سوار ہونے سے پہلے ، جموں وکشمیرسے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قانون سازکونسل ترلوچن سنگھ وزیر نے اپنی بیوی کو ویڈیو کال کی تھی ، اس دوران ہرپریت بھی ٹی ایس وزیر کے ساتھ موجود تھا۔جمعرات کو دہلی پولیس نے ترلوچن سنگھ وزیر کی موت کے سلسلے میں قتل کا مقدمہ درج کیا جس کی سڑی ہوئی لاش دہلی کے بسائی درہ پور کے ایک فلیٹ سے ملی تھی۔
 

قتل کے خلاف ٹرانسپورٹروں کی احتجاجی ہڑتال

پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا،آئل ٹینکر بھی بند رہے

 سید امجد شاہ
جموں //ٹرانسپورٹرس ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور سابق ممبر قانون ساز کونسل ترلوچن سنگھ وزیر کے قتل کے خلاف پبلک ٹرانسپورٹ اور آئل ٹینکر سڑک سے غائب رہے۔آل جموں و کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن نے جموں و کشمیر میں ایک دن چکہ جام عوام کے لیے دیا تھا تاکہ وہ ٹی ایس وزیر کے سوگوار خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں اور اس وحشیانہ قتل پر احتجاج کریں۔جموں اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سڑکیں ویران تھیں جس میں مسافر ٹرانسپورٹ کی کوئی گاڑی نہیں تھی۔آل جموں و کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری وجے کمار شرما نے کہا”چکہ جام کال کامیاب رہا۔ کوئی مسافر گاڑیاں سڑکوں پر نہیں تھیں۔ مسافر ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چلے گی ، لیکن ہم ٹی اے وزیر کے آخری رسوم تک اپنی یونین کے دفاتر بند رکھیں گے“۔اس کے علاوہ جے اینڈ کے پٹرول ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کے صدر آنند شرما نے کہا کہ آئل ٹینکرز بھی سڑک سے دور رہے اور ٹرانسپورٹرز اور مرحوم ٹی ایس وزیر کے سوگوار خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ادھر جموں و کشمیر سکھ یونائیٹڈ فرنٹ کے چیئرمین سدرشن سنگھ وزیر نے مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں کے ہمراہ ترلوچن سنگھ وزیر کے قاتلوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔سدرشن سنگھ وزیر نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، "ہم نے گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا اور جے اینڈ کے پولیس کو تفتیشی ایجنسی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ ٹی ایس وزیر کے قتل کے ذمہ دار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔"انہوں نے کہا کہ وزیر مرحوم سکھ اور ٹرانسپورٹرز کے نمائندے تھے جنہوں نے کسی بھی مسلک سے بالاتر ہوکر معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ تفتیشی ایجنسی کو سازش اور ان کے ذمہ داروں کا پتہ لگانا چاہیے جو مرحوم وزیر کے بہیمانہ قتل کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم مرحوم وزیرصاحب کے سوگوار خاندان کے افراد کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی تفتیشی ایجنسی سے تحقیقات چاہتے ہیں تو ہم ان کی حمایت کریں گے۔واضح رہے کہ ترلوچن سنگھ وزیر کو کل دہلی کے ایک فلیٹ میں پراسرار حالات میں قتل کیا گیا تھا اور آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ان کی میت ابھی جموں لانی باقی ہے۔
 

شیعہ فیڈریشن کی مذمت 

قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

جموں//شیعہ فیڈریشن صوبہ جموںنے مشہور سیاست دان ،ٹرانسپورٹ یونین کے صدر و گردوارہ پربندھک بورڈ جموںکے صدر سردار ٹی ایس وزیر کے قتل کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ۔فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے کہا ہے کہ ٹی ایس وزیر نہ صرف ایک مشہور ٹرانسپورٹر یونین کے لیڈر تھے بلکہ وہ ایک سلجھے ہوئے سیاست دان و غریب پرور شخصیت کے مالک بھی تھے ۔خان نے کہا کہ مرحو م ایک ملنسار ،غریب پرور،سیکولر کے دلدادہ و ہر ضرورت مند کی مدد کرنے والی شخصیت کا نام تھا ۔ان کے قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔خان نے کہا کہ سکھ برادری کو ان کے اچانک جانے سے لا تلافی نقصان پہنچا ہے کیونکہ وہ ایک ہونہار و قوم کے سچے سپاہی سے محروم ہو گئی ہے ،خان نے کہا ہے کہ چونک ٹی ایس وزیر کا قتل دہلی میں ہوا ہے اس لئے دہلی پولیس کا فرض بن جاتا ہے کہ وہ قاتلوںکو فوری گرفتار کرنے کےلئے اقدامات کرے اور مجرموںکو عوام کے سامنے ننگا کیا جائے اور قاتلوںکو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کوئی کسر نہ رکھی جائے۔عاشق حسین خان نے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعاکی کہ لواحقین کو واہیگورو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے ۔