سابق صدر پرنب مکھرجی فوت

نئی دہلی// سابق صدر پرنب مکھرجی کا  پیر کی شام انتقال ہوگیا، وہ 84برس کے تھے۔ ان کے اعزاز میں آج سے ملک بھر میں سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ، "حکومت گہرے دکھ کے ساتھ سابق صدر پرنب مکھرجی کے انتقال کا  اعلان کرتی ہے۔ وہ آرمی کے ریسرچ اینڈ ریفرل اسپتال میں زیر علاج تھے۔ آج سے 6 ستمبر تک مرحوم کی روح کی شانتی کے لئے ملک بھر میں سات روزہ قومی سوگ رہے گا۔ "اس دوران، ملک بھر میں تمام عمارتوں پر قومی پرچم آدھا جھکارہے گا اور سرکاری طور پر تفریحی پروگراموں کا کوئی اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ مکھرجی کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی لیکن اس کی تاریخ ، وقت اور جگہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔سابق صدر کو گزشتہ 10 اگست کو آر آر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس کے دماغ میں خون کے جمنے کا پتہ چلا جس کے بعد اس کا آپریشن کیا گیا۔ بعد میں ، اسے پھیپھڑوں میں انفیکشن اور گردے میں خرابی ہوگئی۔ اسپتال نے آج صبح جاری کردہ ایک بلیٹن میں کہا ہے کہ مکھرجی کی حالت اتوار سے ہی  خراب ہورہی ہے اور اس کے کچھ اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ اسے مسلسل وینٹیلیٹر پر رکھا گیا تھا۔ ادھرلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سابق صدر ہند اور بھارت رتن پرنب مکر جی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔ آنجہانی کو ایک اعلیٰ پایہ کا سیاستدان اور بہت اچھا انسان قرار دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سابق صدر کو اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کیلئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ آنجہانی کوایک قابلِ تقلید ہستی قرار دیتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ ملک کے تئیں اُن کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی انہوں نے کہا کہ آنجہانی کی وفات قوم کیلئے ایک نقصانِ عظیم ہے ۔