سابق سرپنچوں اور پنچوں کا 21 مہینوں کا مشاہرہ واجب الاداد

 سرینگر//حکومت کی طرف سے پنچایتی انتخابات امسال کرانے کے اعلان کے ساتھ ہی سابق پنچوں اور سرپنچوں نے مشروط طور پر ان انتخابات میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے4نکات پر مشتمل مطالبات کی فہرست جاری کی ہے۔ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق پنچوں اور سرپنچوں کی تنظیم عوامی راج مومنٹ نے  واضح کیا کہ وہ ریاست میں جمہوری اداروں کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔عوامی راج مومنٹ کے سربراہ غلام حسن پنزو نے کہا کہ سابق پنچوں اور سرپنچوں کوجولائی2011 سے مارچ2013تک کا ماہانہ مشاہرہ واجب الادا ہے،اور ان کو واگذار نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ یہ رقومات ضلع پنچایتی افسران کو پہنچے ہیں،تاہم اس کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انکے واجب الادا ماہانہ مشاہرے کو فوری طور پر واگذار کیا جانا چاہے،جس کے بعد ہی وہ انتخابی میدان میں قدم رکھیں گے۔غلام حسن پنزو نے مزید کہا کہ انتخابات سے قبل ہی کیرالہ اور مہاراشترا ریاستوں کی طرف سے سرپنچوں اور پنچوں کا ماہانہ مشاہرہ20ہزاراور10ہزار مقرر کیا جانا چاہے۔ عوامی راج مومنٹ کے چیئرمین غلام حسین پنزو نے اس دوران مارے گئے سابق پنچوں اور سرپنچوں کے حق میں ایس آر ائو43لاگو کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انکے لواحقین کی باز آبادکاری کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پنچایتی انتخابات سے قبل ہی جموں کشمیر میں پنچایتی راج ایکٹ کی73ویںاور74ویں ترمیم کا انداراج کر کے،موجودہ گورنر با ضابطہ طور پر ایک حکم نامہ جاری کریں۔اس موقعہ پر عوامی راج مومنٹ کے جنرل سیکریٹری بشیر احمد ملک نے کہا کہ پنچایتوں کو تمام دائروں تک مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ ریاستی لوگوں کو ان اداروں پر اعتبار ہوجائے۔ایک سوال کے جواب میں ملک نے کہا کہ ابتدائی طور پر انہیں کسی بھی سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہے،کیونکہ اگر پنچایتی ادارے مضبوط ہونگے تو وہ سماج کے لوگوں کی ہی خدمت کرینگے،اور اس کیلئے انہیں سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔