سابق جنگجوئوں کی پاکستانی بیگمات کا احتجاج

سرینگر//سابق جنگجوؤں کی باز آباد کاری پالیسی کے تحت اپنے شوہروں کے ساتھ وادی وارد ہوئی پاکستان اور اس کے زیر انتظا م کشمیر کی خواتین نے پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے بھارتی شہریت اور سفری دستاویز کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ سال2010 میں اعلان شدہ سابق جنگجوؤں کی باز آباد کاری پالیسی کے تحت اپنے شوہروں کے ساتھ وادی وارد ہوئیں پاکستان اورپاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی خواتین پیر کو پریس کالونی سرینگر میں نمودار ہوئیں ۔احتجاجی خواتین نے سفری دستایزات کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا’’ ہمیںمیکے جانے کے لئے سفری دستاویزات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کے دورِ حکومت میں سرحد پار گئے کشمیر ی نوجوانوں کیلئے با زآ بادی کاری کی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد پا کستان زیرنتظام کشمیر سے350 کے قریب خواتین اپنے اہل خانہ کے ساتھ کشمیر وارد ہوئیں لیکن یہاں آ نے کے بعد انہیں تمام حقوق سے محر وم رکھا گیا ۔ انہوںنے مزید کہا کہ سفری دستا ویزات نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے وطن نہیں جا پا رہی ہیں اوراس پر طرہ یہ کہ ان کے کئی رشتہ دار فوت ہوئے لیکن وہ دکھ کی اس گھڑی میں بھی واپس نہیں جاپائے۔ احتجاجی خواتین نے مرکزی سرکارسے مطالبہ کیاکہ انہیںمیکے جانے کے لئے سفری دستاویزات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے اپیل کی کہ اُن کے بچوں کو مفت تعلیم ،تعلیمی اداروں میں آسان داخلہ، حج اور عمرہ کے لئے پاسپورٹ کے علاوہ دیگرسہولیات بھی دستیاب کی جائیں۔ سی این ایس