سابق جنگجوؤں کی پاکستانی بیگمات کاپریس کالونی میںدھرنا

سرینگر//کشمیری نوجوانوں سے بیاہی گئی پاکستانی نژاد خواتین نے کل پریس کالونی میں دھرنا دیکر سفری دستاویزات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرمرکزی سرکارکی طرف سے انہیں شہری حقوق فراہم نہیں کئے جاتے تو انہیں واپس بھیجا جائے ۔ سابق جنگجوئوںکی پاکستانی نژاد بیگمات نے اپنے بچوں کو بھی احتجاج کا حصہ بناتے ہوئے کہا کہ انکے بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا’’ جس طرح یہاں باقی شہریوں کو ملکی آئین کے تحت حقوق حاصل ہیںاسی طرح ہمیں بھی سارے حقوق ملنے چاہئیں،کیوںکہ بھارتی سرکار کی جانب سے فراہم کردہ راہداری کے بعد ہی ہم نے یہاں آنے کیلئے حامی بھرلی تھی اور ہم سے کہا گیا تھا کہ آپ کو تمام حقوق بشمول سفری دستاویزات فراہم کئے جائیں گے تاکہ اپنے اہلخانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ وقت وقت پر ملتے رہیں۔‘‘ احتجاجی خواتین نے کہا کہ یہاں 370 کنبے ہیں جو زائد از تین ہزار نفوس پر مشتمل ہیں اور وہ گوناگوں مشکلات و مسائل سے دوچار ہیں۔مصباح  نامی ایک خاتون نے کہا ’’ ہم نے آج تک کئی احتجاج کئے لیفٹیننٹ گورنر سے بھی ملے لیکن کسی نے ہمارا مسئلہ حل نہیں کیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی انہیں یہاں لانے کی پالیسی ناکام ہوئی ہے تو انہیں چاہئے کہ واپس بھیج دے۔موصوفہ نے کہا ’’ ہم سرحد تک بھی ایک بار گئے لیکن وہاں ہمارے بچوں کو دن بھر بھوکا رکھا گیا اور ہم پر ڈنڈے برسائے گئے۔’’احتجاجی خواتین نے کہا ہے کہ اگر مرکزی سرکار انہیں سفری دستاویزات فراہم نہیں کرتی تو  انہیںواپس پاکستان یا پاکستانی زیر انتظام کشمیر جانے کی اجازت دیں ۔