زینہ پورہ میں جھڑپ جاری،جنگجو جاں بحق

سرینگر+شوپیان // میلہورہ زینہ پورہ شوپیان گائوں میں منگل کو 7روز کے دوران دوسرا مسلح تصادم شروع ہوا، جو رات دیر گئے تک جاری تھا۔ جھڑپ میں ایک جنگجو کی ہلاکت ہوئی ہے۔یہاںفائرنگ کے تبادلے میں فوج اور پولیس کے 2اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک جواں سال خاتون بھی دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں اور ایک نوجوان پیلٹ لگنے سے مضروب ہوا۔ مقام جھڑپ کے نزدیک مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مذکورہ گائوں میں 22اپریل کو اسی طرح کی ایک معرکہ آرائی میں 4جنگجو جاں بحق ہوئے تھے۔ منگل کی سہ پہرتصادم آرائی شروع ہوتے ہی ضلع شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئیں ۔

تصادم آرائی

پولیس ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں میلہورہ زینہ پورہ گائوں میں کم سے کم تین جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی،جن میں ایک کمانڈر بھی شامل ہے ، جس کے بعد55آر آر اور178بٹالین سی آر پی ایف کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔پولیس نے بتایا کہ سہ پہر چار بجے کے قریب گائوں کا محاصرہ کیا گیا اور سبھی ممکنہ راستوں کو بند کر کے تلاشی کارروائی شروع کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جب فورسز اہلکار مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچ گئے تو یہاں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر فائر کھولا جس کے بعد طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جو رات دیر گئے تک جاری رہا۔جھڑپ کے دوران فوج کا ایک اور ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے مکان پر مارٹر شلنگ بھی کی جس سے زوردار دھماکے ہوئے اور خوف و ہراس پھیل گیا۔افطاری کے وقت فائرنگ کا سلسلہ کچھ منٹ کیلئے تھم گیا لیکن رات 8بجے کے بعد ایک بار پھر شدید فائرنگ شروع ہوئی جو دس بجے تک جاری رہی۔کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی معرکہ آرائی میں رات دیر گئے ٹھہرائو آگیا۔بتایا جاتا ہے کہ کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ۔فوج نے کہا کہ آپریشن جاری ہے اور ایک جنگجو کی ہلاکت ہوئی ہے۔جھڑپ کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں جواں سال خاتون شہنواز بانو زوجہ فاروق احمد کوکا دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوئیں جسے صدر اسپتال منتقل کردیا گیا۔میلہورہ گائوں میں ہی 22اپریل کو مسلح جھڑپ ہوئی تھی جس میں 4جنگجو جاں بحق ہوئے تھے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماہ رمضان کے چار روز میں لگاتار جھڑپیں ہوئیں ہیں۔

پر تشدد جھڑپیں

پولیس ذرائع نے کہ جونہی مسلح جھڑپ شروع ہوئی تو مقام جھڑپ کے نزدیک سینکڑوں لوگ آنے کی کوشش کرنے لگے اور جب انہیں روکا گیا تو وہ مشتعل ہوئے اور تشدد پر اتر آئے۔ پتھرائو کرنے والے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور جب مظاہرین نے پتھرائو میں شدت کی تو پیلٹ کا استعمال کیا گیا جس کے دوران آصف احمد ولد نثار احمد ساکن وچی زخمی ہوا۔ یہاں رات دیر گئے تک جھڑپیں بھی جاری تھیں۔
 

بیروہ میں تلاشیاں

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// وسطی ضلع بڈگام کے بیروہ علاقے میں منگل کو فورسز اور پولیس اہلکار بونہ محلہ میں نمودار ہوئے اور پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشیاں شروع کیں۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے کی گھیرابندی کی گئی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز نے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ شروع کیا گیاتاہم اس دوران ممکنہ جنگجوئوں سے ان کا آمنا سامنا نہیں ہوا۔آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں کریک ڈائون جاری تھا۔
 

پلوامہ میںشبانہ فائرنگ و دھماکے،کمین گاہ تباہ،3افراد گرفتار

سید اعجاز
 
پلوامہ// لرو کاکا پورہ پلوامہ نامی گائوں میں پولیس و فوج نے ایک کچن میں بنائی گئی کمین گاہ تباہ کردی ۔فورسز نے مالک مکان سمیت 3 افراد کی گرفتار عمل میں لائی گئی ہے۔ مذکورہ گائوں کو فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے سوموار اور منگل کی درمیانی رات محاصرے میںلیا اور اس دوران ہوائی فائرنگ کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سحری سے قبل گائوں میں تین دھماکوں کی آواز بھی سنی۔پولیس کا کہنا ہے کہ فورسز نے عبد القیوم ڈار کے مکان کے صحن میںتعمیر کئے گئے کچن کے اندر بنائی گئی کمین گاہ کو تباہ کیا ۔ کمین گاہ سے کچھ کھانے پینے کے اشیاء بھی برآمد کی گئی ۔ فورسز نے مالک مکان عبد القیوم ڈارکے علاوہ ان کے 2پڑوسیوں مشتاق احمد اور عبد الحمید کی گرفتار ی عمل میں لائی ۔ مقامی لوگوں نے بتایا چار بجے 3زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں سراسیمگی پھیل گئی۔