زکوٰۃ کی ادائیگی۔چند قابلِ توجہ امور! | غفلت اور نا علمیت سے دُرست ادائیگی نہیں ہو جاتی

محمد توحید خان ندوی
مسلمانوں کی اسلامی تاریخ میں ماہ رمضان دین کے احیاء اور فکر آخرت کی تازگی ، ہمہ وقت توجہ الی اللہ ، باہمی اخوت ومساوات کی جیتی جاگتی تصویروں کے لحاظ سے ایک ممتاز مہینہ واقع ہوا ہے ۔اس مہینہ میں مسلمان دین کے عمومی و زندہ ماحول کی بنا پر روزہ و تراویح، ذکر و تلاوت کے ساتھ ساتھ بکثرت فریضہ زکٰوۃ و صدقات کا نمایاں طور پر اہتمام کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں اور بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ روئے زمین پر انسانی معاشرے کے خستہ حال، کمزور طبقہ پر اس مہینے سے زیادہ کسی بھی مہینے میں روپیہ پیسہ، اشیاء خوردونوش،ملبوسات اور انسانی امداد تقسیم نہیں کی جاتی ہے، یہ نتیجہ ہے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کا کہ یہ مہینہ کمزوروں ، زیر دستوں اور بیکسوں کی غمخواری و داد رسی کا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ کی آمد کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اور یہ ہمدردی و غمخواری کا مہینہ ہے اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو یہ عمل اس کے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوگا اور اسے روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ اسی طرح اس ماہ صدقات کی کثرت کی ایک وجہ زیادہ اجر و ثواب حاصل کرنے کی حرص و طلب بھی ہے کیونکہ اس ماہ مقدس میں رحمت خداوندی کی طرف سے اعمال و احکام کی تعمیل پر اجر بڑھا دیا جاتا ہے اس طور پر کہ نفل کی ادائیگی پر فرض کے حساب سے اور ایک فرض کی ادائیگی پر ستر فرائض کی انجام دہی کے لحاظ سے اجر لکھا جاتا ہے بلکہ ایک دوسری حدیث میں وارد ہوا ہے کی نیک عمل کا ثواب سنت کی مطابقت اور درجہ اخلاص کے لحاظ سے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔

ماہ رمضان میں ادائیگی زکوٰۃ کے عمومی ماحول کی ان دو بنیادی وجہوں کے ساتھ ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے جو دراصل ان دو وجوہات ہی کا نتیجہ ہے ،وہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں بالعموم اور بر صغیر میں بالخصوص اور وہ ممالک جہاں اسلامی نظام حکمرانی نافذ العمل نہیں ہے ، ان میں دینی مدارس اور تعلیمی مراکز کا قیام مسلمانوں کی رقومات ، عطیات، زکوٰۃ و صدقات ہی کے دم سے ہے۔ اس لئے ان اداروں کے سفراء، محصلین کی آمد اسی ماہ کے ابتدائی دو عشروں کے درمیان ہوتی ہے جو مساجد میں نمازوں کے بعد تعاون کے لیے اعلان کرتے ہیں اور بعض لوگوں کے یہاں خصوصی ملاقات پر بھی جاتے ہیں اور زکوٰۃ و عطیات وصول کرتے ہیں۔

لہٰذا رمضان المبارک میں ادائیگی زکوٰۃ کا یہ خوش کن ماحول پایا جاتا ہے جو بیک وقت روزے نماز جیسے بنیادی فرائض کے احیاء کے ساتھ ساتھ فریضہ زکٰوۃ کے احیاء کا سبب بھی بنتا ہے اور مسلمانوں کی بڑی تعداد اس کو انجام دے کر اس فریضے سے سبکدوش ہوتی ہے۔

      قابلِ توجہ امور:یہ ماحول اپنے مقصد کے لحاظ سے ایک قابل تحسین ضرور ہے تاہم اس سلسلے میں چند پہلو قابلِ توجہ ہیں جن کی رعایت اور پاس و لحاظ میں عموماً غفلت پائی جاتی ہے۔زیادہ تر لوگ زکوٰۃ کے وجوب، ادائیگی کے طریقے، مصارف اور جدید دور کی متنوع اقتصادی چیزوں میں انکی کیفیت سے ناواقف رہتے ہیں حالانکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ نصاب میں کون کون سی چیزیں شامل ہونگی اور پھر ان پر کتنی شرح اور مقدار کے لحاظ سے زکوٰۃ کی رقم واجب ہوگی، یہ معلوم کرنا ضروری ہے ورنہ زکوٰۃ کی ادائیگی درست نہیں ہوگی۔

زکوٰۃ کا نصاب سونے کے لحاظ سے ساڑھے سات تولہ جو گرام میں 87 گرام 480 ملی گرام بنتا ہے اور چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے چاندی جو گرام میں 612 گرام 360 ملی گرام بنتا ہے۔ یہ چاندی و سونے کا نصاب وجوب زکوٰۃ کے لیے ہے نہ کہ ادا کے لئے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص (مرد/عورت) کے پاس مذکورہ بالا سونے کی مقدار یا چاندی کی مقدار ہو یا دونوں کے انضمام سے کم ازکم چاندی کا نصاب پورا ہوجائے یا اتنا بینک بیلنس، سامان تجارت ہو تو اس پر ادائیگی زکوٰۃ کے وقت موجود کل سونے چاندی، سامان تجارت کی بازاری قیمت فروخت کے لحاظ چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فی صد بطورِ مقدار زکوٰۃ کے نکالنا فرض ہوگا۔

بہت سے لوگ سامان تجارت مثلاً فلیٹس، پلاٹ، امپورٹ ایکسپورٹ ہونے والے سامان کی بابت یہ تصور رکھتے ہیں کہ تجارت کے سامان کی قیمت پر نہیں بلکہ جو اس سے نفع ملے گا، اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔حالانکہ یہ غلط تصور ہے سامان ِتجارت خواہ کچھ بھی ہو مثلاً شیئرز، برائے فروخت زمین، بنے ہوئے مکانات، دوائیں، ملبوسات، کھجوریں، مرغیاں، بکریاں، انڈے، لکڑیاں، ہارڈ ویئر اجزا، موبائل فون، دیگر برائے فروخت سامانِ تجارت انکی ادائیگی زکوٰۃ کے وقت جو مارکیٹ ویلیو ہوگی، اس کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ واجب ہوگا۔ایسے ہی کئی خواتین ،زیورات ہوتے ہوئے بھی انکی زکوٰۃ صرف اس لیے ادا نہیں کرتیں کہ ان کے پاس رقم، روپیہ پیسہ موجود نہیں ہے اور زیورات فروخت کرنا نہیں چاہتی ہیں ۔واضح رہے کہ ایسا کرنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ زیور نصاب کے برابر ہو ،خواہ برائے فروخت ہو یا برائے استعمال یا بیٹی کی شادی کے لئے بطورِ محفوظہ، ہر حال میں انکی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اگر ابھی پیسے نہیں ہیں تو انھیں فروخت کر کے یا آئندہ سال آنے سے پہلے پہلے نکالنا ضروری ہوگا۔

 شہروں میں بعض بڑے کاروباری حضرات طویل مدتی دیون (Long period loan) لیتے ہیں اور ان کو وجوب زکوٰۃ میں رکاوٹ تصور کرتے ہیں، حالانکہ فقہاء نے صاف لکھا ہے کہ ایسے طویل مدتی دیون کی اقساط میں صرف وہی رقم بطور قرض مقدار زکوٰۃ سے منہا کی جائے گی جو فی الحال ایک سال کے اندر اندر واجب الادا ہوگی۔

بعض لوگ لائف انشورنس، باوئنڈز (قرض) ، اختیاری پراویڈنٹ فنڈ، فکسڈ ڈپوزٹ، سامان تجارت کی بھاری ادھار جیسی رقومات کو بھی پاس موجود نہ ہونے کی بنا پر مقدار زکوٰۃ میں شامل نہیں مانتے اور نہ ہی انکے حصول کے بعد گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تو ایسے لوگ زکوٰۃ نہ ادا کرنے والے لکھے جاتے ہیں۔

ایسے ہی مصارف زکوٰۃ کے سلسلے میں بھی بڑی کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ لوگ زکوٰۃ کی رقم بغیر تحقیق کے ہر کس و ناکس یہاں تک ہر سائل، کشکول فقیری، لباس غربت میں ملبوس دست دراز کو دے دیتے ہیں، بعض حضرات تو مساجد کے ائمہ و مؤذنین کو بھی مختلف طریقوں سے مد زکوٰۃ میں سے ختم تراویح، ہدیہ عید کے عنوان سے حوالے کر دیتے ہیں ،مدارس کے سفراء کے پرفریب بھیس میں آئے ہوئے ہر شخص کو دیتے رہتے ہیں جبکہ محقق خبروں، مشاہدات و تجربات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ماہ رمضان میں اس بھیس میں گھومنے والے بعض غیر مسلم، فراڈی، نام نہاد ملاّ ، چندہ وصول کرنے والے غیر مستحق لوگ بھی ہیں، جن کا رمضانی پیشہ یہی ناجائز سالانہ دھندہ ہے۔

لہٰذا زکوٰۃ دینے والوں کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ پورے حساب کتاب کے ساتھ ساتھ مستحق افراد، اداروں اور معتبر سفراء کی ضروری حدود، بنیادی ذرائع تحقیق کے لحاظ سے تحقیق بھی کرلیں تاکہ زکوٰۃ کی واجب رقم مستحقین کو پہونچے اور ناجائز و من گھڑت مصارف کا سد باب ہوسکے۔

زکوٰۃ کی ادائیگی کے باب میں پائی جانے والی غفلتوں و کوتاہیوں میں سے یہ چند ہی ہیں جو برسبیل تذکرہ زیر قلم آگئیں، ورنہ گہرے جائزہ کے بعد اس جیسے بہت سے کوتاہ پہلوؤں پر سے پردہ اٹھے گا جو بڑی عمومیت کے ساتھ ناخواندہ، دین سے دور مسلم معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہ مقدس کی اس ادائیگی زکوٰۃ کے اس عمومی ماحول کے وقت زکوٰۃ کے وجوب، نصاب، مقدار، اور اس کے مستحق مصارف سے واقفیت حاصل کریں تاکہ زکوٰۃ کی ادائیگی شریعت کے ضابطوں کے لحاظ سے درست واقع ہو ۔زکوٰۃ کے بعض مسائل دین کی گہری و مستند معلومات کے متقاضی ہوتے ہیں جو بہت سے علماء، ائمہ مساجد نرے حفاظ کی فہم سے بالا ہوتے ہیں، ایسے مسائل کی تحقیق ادائیگی زکوٰۃ سے پہلے مستند و معتبر مفتیان کرام بالخصوص جو مسلسل علمی کاموں اور مسئلہ و مسائل کی نقل و تحقیق سے ممارست رکھتے ہیں ،از حد ضروری ہے۔ جدید اقتصادی طریقوں سے عام علماء بالعموم ناواقف ہیں، اس لئے ان میں وجوب زکوٰۃ، مقدار و نصاب سے واقفیت کے لئے ایسے محقق مفتیان کرام سے رجوع ضروری ہے جو جدید حالات اور نئے مسائل کے شرعی احکام سے معتبر واقفیت رکھتے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر تمام مسلمان بالخصوص ان کا مقتدر، صاحب حیثیت طبقہ زکوٰۃ کے شرعی احکام و ہدایات کی مکمل رعایت کے ساتھ مستحق اداروں، افراد تک از خود پہونچانے اور زکوٰۃ ادا کرنے لگے تو کم از کم مسلمانوں کی غربت، بے روزگاری، معاشی تنگی ختم ہو جائے اور گھروں میں بیٹھی ہوئیں بن بیاہی ہزاروں لڑکیوں کے اپنے اچھے گھر بس جائیں اور دینی مدارس، مکاتب اور چھوٹے کاروباریوں کی مالی و معاشی مشکلات دور ہو جائیں۔

[email protected]