زچہ بچہ اسپتال سوپور | الٹراسونوگرافی مشین5برسوں سے بیکار

غلام محمد
سوپور // سوپور کے زچہ اور بچہ اسپتال میں قائم الٹرا سونوگرافی (USG) مشین گزشتہ پانچ برسوں سے اسپتال کے ایک بند کمرے میں بیکار پڑی ہوئی ہے، جس پر یہاں کے لوگوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا اورلیفٹننٹ گورنر اور ضلع انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ حکومت نے پانچ سال قبل یہاں لاکھوں روپے مالیت کی اعلی طرز کی الٹرا سونوگرافی مشین فراہم کی تھی مگر کچھ ماہ چلنے کے بعد ہی وہ خراب ہوگئی اور تب سے یہ مشین محکمہ صحت کی لاپروائی اور عدم توجہ کے باعث سے اسپتال کے ایک کمرے میں بند پڑی ہے، جس سے زچگی بیماروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیںاور انہیں باہر نجی ڈائگناسٹک سنٹروں پر (USG) کروانے کے جانا پڑتا  ہے جہاں انہیں 600 سے 1000 روپے دینے پڑتے ہیں۔ اگرچہ ایک طرف حکومت کا دعوی ہے کہ وہ زچگی سے وابستہ خواتین کو تمام سرکاری اسپتالوں میں ہر طرع کی مفت سہولیات فراہم کر رہی ہیں تو سوپور کے اس زچہ بچہ اسپتال میں تعینات عملہ کی لاپروائی اور عدم توجہ سے یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہورہا ہے۔اس سلسلے میں اکنامک الائنس سوپور کے ایک سینئر کارکن حاجی محمد اشرف گنائی نے بتایا  کہ یہ کافی افسوسناک ہے کہ شمالی کشمیر کے اس بڑے زچہ اور بچہ اسپتال میں الٹرا سونوگرافی مشین گزشتہ کئی برس سے بیکار پڑی ہے اور یہ بدقسمتی کا عالم ہے کہ یہاں محکمہ صحت کے تعینات افسران اس بات سے باخبر ہوکر بھی اس مشین کو ٹھیک کروانے کا کوئی اقدام نہیں کرتے  جبکہ وہ خود نہیں چاہتے ہیں کہ یہ (USG) مشین ٹھیک ہوجائے کیونکہ انہیں باہر نجی کلنکوں سے کمیشن ملتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ضلع انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس الٹرا سونوگرافی مشین کو جلد ازجلد ٹھیک کروانے کیلئے مداخلت کریں تاکہ غریب لوگوں کو اور زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔