زمین کی سیر کرو

سیروا فی الارض زمین پر چلو ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر ارشاد فرمایا: زمین پر چلو سیر و سیاحت کرو تاکہ اس کی قدرت کا مشاہدہ کر سکو ،زمین کی دلکشی، رنگ برنگے کلیاں، خوش نما فضائیں، حسین وادیاں جب تمہارے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دے اور تمہاری عقلیں کام کرنا بند کر دیں اور تم سوچنے پر مجبور ہو جاؤ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے ان سب چیزوں کو پیدا فرمایا، تو اس کا شکر بجا لاؤ۔ موجودہ دور میں سفر کرنا نہایت آسان اور آرام دہ ہے۔ ابھی ایشیا میں چائے کی چسکی لی تو یورپ میں لذیذ کھانوں سے شکم سیر ہو رہے ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا، لمبی لمبی مسافت طے کرنا اب بس چند گھنٹوں کا کام ہے، وہ بھی بڑی آسانی اور پر لطف انداز میں، لیکن پہلے ایسا نہیں تھا ۔ایک شہر سے دوسرے شہر جانا بھی کافی دشوار تھا، سخت ترین جنگلوں پر پیچ راہوں کو طے کرنا، جس میں جانوروں کے ساتھ ڈاکوؤں اور لٹیروں کا خطرہ اورساتھ ہی ساتھ دشوار گزار اور سخت ترین راستے، جس پر چلنے میں دم نکل جاتا اور چھوٹی مسافت ہی طے کرنے میں عرصہ بیت جاتا تھاجبکہ اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی تھی کہ مسافر واپس گھر لوٹ پائےگا بھی یا نہیں۔ اور اگر بہت عرصے بعد واپس لوٹ بھی آتا تو بہت سارے عزیز و اقارب دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ،حتیٰ کہ اسے پہچاننے والا بھی کوئی نہیں ہوتا تھا۔ ابن بطوطہ مشہور سیاح جس کا اصلی نام عبداللہ تھا، جب وہ لمبی مسافت طے کرنے کے بعد واپس گھر لوٹا تو اس کے گھر میں کوئی اسے پہچان ہی نہیں پا رہا تھا، گویا کہ پچھلے زمانے میں سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں پر کرم فرمایا اور اسے عقل سلیم عطا فرمائی، جس کی مدد سے اس نے ایسی ایسی چیزیں ایجاد کیں، جس کا پچھلے زمانے کے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے اور ان چیزوں کے ذریعے سفر کرنا نہایت آسان ہو گیا۔ اب لوگ محض چند منٹوں میں میلوں کا سفر پر لطف انداز میں اے سی کا مزہ لیتے ہوئے بڑی آسانی سے طے کر لیتے ہیں۔ بعض لوگوں کو کام کی وجہ سے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور بعض لوگ خالص سیر و تفریح کی غرض سے ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرتے ہیں۔ یہ روایت زمانہ قدیم سے چلی آ رہی ہے ایک ہی جگہ رہ کر انسان کا دل و دماغ اکتا جاتا ہے اور اسے ذہنی اور جسمانی سکون کی ضرورت ہوتی ہے، جو اسے سیر و تفریح کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ سیر و تفریح نہ صرف ذہنی اور جسمانی سکون کا باعث ہے بلکہ  ساینسی تحقیق کے مطابق اس کے اور بھی بے شمار فوائد ہیں، مثلاً سیر و تفریح بہت ساری بیماریوں سے نجات کا ذریعہ بنتی ہے اور بہت ساری بیماریوں سے بچا کر دل و دماغ کو ایک نئی تر و تازگی بخشتی ہے جو انسانی زندگی کے لیے مفید اور کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ ہندوستان میں عموماً لوگ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے بچوں کو اس کے نانی گھر لے جاتے ہیں ،جہاں وہ کافی اطمینان و سکون محسوس کرتے ہیں اور حسین فضاؤں دلکش وادیوں سے پر لطف ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کے کئی حسین یادیں اس جگہ سے جوڑ لیتے ہیں۔ نانی گھر کے علاوہ بھی ہندوستان میں بہت ساری ایسی جگہیں ہیں ،جہاں ہمیں ایک بار ضرور جانا چاہیے جیسے شملہ منالی جو ہماچل پردیش میں واقع ہے۔ وہاں کی دلکش فضائیں حیرت انگیز بڑے بڑے پہاڑ،پہاڑوں سے نکلتی ہوئی صاف و شفاف ندیاں، حسین موسم آپ کا دل موہ لینے اور آپ کو اپنا گرویدہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ اس کے علاوہ نینی تال گینگٹوک دارجلنگ وغیرہ اور بھی دلکش اور حسین وادیاں ہیں، جہاں کا سفر ہمیں ضرور کرنا چاہیے۔ موجودہ دور میں ڈپریشن اور خوش نہ رہ پانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان ایک ہی جگہ رہ کر اپنے دل و دماغ کو زنگ آلود کر لیتا ہے کیوں کہ اگر کوئی بھی کام مسلسل کیا جائے اور بریک نہ لیا جائے تو دل و دماغ اکتا جاتا ہے اور ایک اداس کیفیت انسانی زندگی میں شامل‌ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے انسان بد مزاج غمناک اور تنہائی پسند ہو جاتا ہے اور آگے چل کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔ سیر و تفریح کا معنیٰ فقط یہ نہیں کہ دور دراز اور لمبی مسافت ہی طے کی جائے ،آپ اپنے شہر اپنے محلے اپنے قصبے میں بھی سیر و تفریح کے لیے نکل سکتے ہیں۔ بہت سارے لوگ صبح سویرے اٹھ کر سیر و تفریح کا‌ مزہ لیتے ہیں اور دل و دماغ کو تازگی بھی بخشتے ہیں ۔موجودہ دور میں مفید اور کارآمد ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل ایک مہلک آلہ بھی ہے کیوں کہ لوگوں کو اس قدر اس کی عادت لگ چکی ہے کہ وہ بیت الخلاء بھی اسے ساتھ ہی لے کر جاتے ہیں اگر کام کبھی جلد ختم بھی ہو گیا تو باہر نکل کر سیر و تفریح حسین فضاؤں کا مشاہدہ کرنے کے بجائے لوگ موبائل فون میں وقت صرف کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں ،جو ان کے دل و دماغ کو آہستہ آہستہ پژمردگی کی طرف مائل کر دیتی ہے۔ رات دیر تک موبائل کا استعمال کرنا اور صبح کے خوشگوار موسم سے پر لطف نہ ہونا حماقت ہے۔ الحاصل سیر و تفریح انسانی زندگی کے لیے نہایت اہم و ضروری ہے اور یہ ہر ایک ذی فہم پر مسلم ہے۔ کوئی بھی عاقل شخص اس کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کر سکتا ۔سیر و تفریح کی غرض سے سفر کرنے میں نہ صرف مزہ آتا ہے بلکہ ہم ایک ایسے احساس سے بھی سر شار ہوتے ہیں جو ہمارے دل و دماغ میں ایک نا معلوم فرحت بخش خوش گوار تر و تازہ جوش بھر دیتا ہے، جس سے ہم اپنے آپ کو مطمئن اور پر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے کم از کم سال میں ایک دفعہ سیر و تفریح کی غرض سے کسی دلکش و دلفریب جگہ کا سفر ضرور کرنا چاہیے اور اپنے آس پاس کے علاقوں محلوں قصبوں میں روز بطور تفریح کچھ دیر گشت کر لینا چاہیے تاکہ ہمارا دل و دماغ تر و تازہ رہے۔
خبر کیا موت کب آئے وداع ہونا پڑے سب سے
مسافر ہو جب کچھ دن کا تو جگ میں گھوم لو لوگوں
(جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی ۔رابطہ ۔8436658850)