زمینداروں کے معاوضے کا معاملہ | پی ایم جی ایس وئی کے ْ خلاف کڑجی منگت میں احتجاجی مظاہرے

بانہال // بانہال سب ڈویژن ہیڈکواٹر سے قریب پچیس کلومیٹر دور کڑجی منگت میں لوگوں نے محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے خلاف معاوضے کی بقایا رقم کی ادائیگی میں تاخیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔احتجاج میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ سال 2012 میں بانہال منگت رابطہ سڑک کی زدمیں آنے والے زمینداروں کی ملکیتی آراضی ایک لاکھ دس ہزار روپئے فی کنال کی قلیل رقم کے عوض لی گئی ، لیکن نوسال بعد بھی اس رقم کا بیس فیصدی حصہ محکمہ پی ایم جی ایس وائی سے واجب الوصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی وجہ سے بے گھر ہوئے زمینداروں کو مکان بنانے کیلئے بارہ لاکھ روپئے فی کنال کے حساب سے زمین خریدنا پڑ رہی ہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔احتجاجی مظاہرین کا الزام ہے کہ محکمہ PMGSYپھلدار درختوں کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے میں بھی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے زمینداری پر منحصر لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور محکمہ کی نااہلی کی وجہ سے لوگ مایوس ہوچکے ہیں۔سابقہ سرپنچ منگت گلْ محمد جان کی قیادت میں ہوئے احتجاج میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقہ منگت کو بانہال سے جوڑنے والی رابطہ سڑک پی ایم جی ایس وائی کے زیر تعمیر ہے اور علاقے کے غریب زمینداروں کو 2012 میں 5500فی مرلہ کے حساب سے آراضی کا معاوضہ ادا کیا گیا تھا جو علاقہ کے غریب زمینداران کے ساتھ سخت ناانصافی اورزیادتی کے مترادف ہے کیونکہ جن زمینداروں کی ملکیتی آراضی سڑک کیلئے قلیل رقم کے عوض لی گئی تھی اْنہیں اب مکان بنانے کے پچاس ہزار روپئے فی مرلہ کے حساب سے زمین خریدنا پڑ رہی ہے۔ سابقہ سرپنچ گل محمد جان نے بتایاکہ بدقسمتی کا مقام یہ کہ زمینداروں کو ادا کی گئی قلیل رقم میں سے بیس فیصدی رقم محکمہ پرائم منسٹر گرامین سڑک نے اب تک زمینداروں کو ادا ہی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جو زمین اور پھلداردرختان سڑک کی تعمیرمیں تباہ ہوئے ہیں اْن کے معاوضے کی فائیلیں بھی ابھی تک تیار ہی نہیں کی گئی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مسلسل لاک ڈاون اور غربت کی وجہ سے مزدور اور زمیندار پیشہ لوگ اس وقت شدید مالی بحران سے دوچارہیں کیونکہ ان زمینداروں کی روزی روٹی اسی زمین پر منحصر تھی۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ رام بن اور تحصیل انتظامیہ کھڑی خاص کر ایس ڈی ایم بانہال سے گزارش کی ہے کہ وہ بقایا پڑی بیس فیصدی رقم کی واگذاری اورنقصانات کا معاوضہ ادا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ لاک ڈاون کی وجہ سے فاقہ کشی کا شکار اور بیروزگارہوئے ْ سراچی ، کڑجی ، ارم ڈھکہ اور منگت لوگوں کو راحت مل سکے۔مظاہرین نے کہا کہ لوگ منریگا سے روزگار کماتے تھے لیکن یہ سلسلہ پنچایتی راج کے وجود میں آنے کے بعد بندہوچکا ہے اور علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا عوام کی مشکلات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہاہے اوردہی مجلس، گرام سبھا اور وارڈ سبھا منعقد نہیں کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی تعمیراتی پلان مرتب ہی نہیں کیا جا رہا ہے اور غریب لوگ مسلسل مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔اس احتجاجی مظاہرے میں اور لوگوں کے علاوہ ریاض گل ، عبدالاحد لون ، بہار احمد نائیک ، ریاض احمد لون ، جمال الدین گوجر ، غلام رسول گوتھ ، غلام قادر کوٹے ، نساراحمد کوٹے اور غلام حسن لون بھی شامل تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔