زلزلہ متاثرہ کرناہ کے عوام کیلئے ایک اور پریشانی

 کرناہ //کرناہ میں 8اکتوبر 2005کے تباہ کن زلزلے میں کھوکھلی ہو چکی چٹانیںگرنے کا عمل جاری ہے جس کے نتیجے میں ان علاقوں کے لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں ۔بکھایاں ناڑ علاقے میں پہاڑوں کے دامن میں رہائش پزیر 50کنبوں کے لوگ رات کے دوران اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔گاﺅں کے لوگوں نے بتایا اکثر بارشوں کے دوران یہاں پسیاں اور پتھر گرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔ لوگوں کے مطابق محکمہ دہی ترقی اور آراینڈ بی نے اگرچہ علاقے میں بنڈ وغیرہ تعمیر کئے ہیں لیکن یہ بنڈ بھی گر آنے والے پتھروں کی وجہ سے تباہ ہورہے ہیں۔معلوم رہے کہ محکمہ جیالوجی اینڈ مائنگ نے زلزلے کے بعد کرناہ کے 11دیہات جن میں ٹیٹوال ، مقام چنی پورہ ، تربونی ، گھنڈی شاٹ ، سنگڑی ، نواں گبرہ ، درگڑ ، بٹیلاں اور ٹنگڈار ناڑ شامل ہیں کو غیر محفوظ قرار دے کر وہاں مقیم کنبوںکو دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا تھا تاہم کسی بھی گاﺅں کو محفوظ مقام کی طرف منتقل نہیں کیا گیا اور یہاں کے کنبے بارشوں اور برف باری سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔بکھایاں گاﺅں میں چٹانیں کے گرنے کے حوالے سے کشمیر عظمیٰ نے جب تحصیلدار کرناہ نثار احمد اعوان سے بات کی تو انہیں بھی بکھایاں ٹار سے پتھر اور پسیاں گرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ایسے کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا بھی سوچ بچار کر رہی ہے ۔مقامی لوگ مانگ کر رہے ہیں ان کےلئے اقدمات کئے جائیں تاکہ آنے والے دونوں میں انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔کھڑی میں پسیوں اور چٹانوں کے کھسکنے کے بعد 9 کنبوں کو منتقل کیا گیا۔