زرعی یونیورسٹی کشمیر میں سمارٹ ایگریکلچر پر 2 ہفتے کی ٹریننگ شروع

سرینگر//شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کشمیر نے یہاں کے مرکزی کیمپس شالیمار کے کالج آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ’آئی او ٹی فار سمارٹ ایگریکلچر‘ پر دو ہفتے کا تربیتی پروگرام شروع کیا۔اس تربیت کا اہتمام ورلڈ بینک اورآئی سی اے آر کی مالی اعانت سے چلنے والے نیشنل ایگریکلچرل ہائر ایجوکیشن پروجیکٹ (NAHEP) کے تحت زرعی یونیورسٹی کی ادارہ جاتی ترقی کے تعاون سے کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام پروفیسر جے پی شرما، وائس چانسلریونیورسٹی کی سرپرستی میں منعقد کئے گئے ہیں۔زرعی یونیورسٹی اور مختلف اداروں کے طلباء ، ریسرچ اسکالروں اور فیکلٹی دو ہفتے کے تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔پروفیسر جے این خان نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے زرعی شعبے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے IoT کے شعبے میں علم کی بنیاد بنانے پر زور دیا۔ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ اور PI NAHEP پروفیسر نذیر احمد گنائی نے اپنے افتتاحی کلمات میں، زراعت اور سمارٹ فارمنگ میں IoT کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے روایت سے ہٹ کر  جدید زراعت کی طرف منتقل ہونے کے لیے سینسنگ، آٹومیشن اور تجزیاتی ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔ معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے اختراعی آئیڈیاز پیش کرنے میں طلباء کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اختراعی اور کاروباری شخصیت پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام کا مقصد طلباء کے نئے خیالات کو پروان چڑھانا اور انہیں جدید اور خلل ڈالنے والے حل تیار کرنے کے لیے درکار وسائل فراہم کرنا ہے جو کہ انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) پر کام کرتے ہیں تاکہ زراعت اور اس سے منسلک ڈومینز میں مسائل کو حل کیا جا سکے۔ پروفیسر فاروق احمد ذکی نے کہا کہ اس قسم کے تربیتی پروگرام طلباء کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور کیریئر کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تربیتی پروگراموں کے انعقاد کی ضرورت ہے تاکہ چوتھے صنعتی انقلاب کو آگے بڑھانے کے لیے موزوں خصوصیات کے ساتھ انسانی سرمایہ تیار کیا جا سکے۔