زرعی یونیورسٹی میں دوسرے روز بھی تدریسی سرگرمیاں معطل

سرینگر// زرعی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلاب نے یونیورسٹی کو مقفل کیاجس کی وجہ سے دوسرے روز بھی تدریسی سرگرمیاں بند رہیں۔احتجاجی طلاب نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ایگری کلچر یونیورسٹی کو ہارٹیکلچر یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ترک نہیں کیا ،تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ شالیمار میں واقع ایس کے زرعی یونیورسٹی کشمیر میں منگل کو زیر تعلیم طلاب نے یونیورسٹی کے باہری دروازے کو مقفل کرتے ہوئے تدریسی سرگرمیاں بند کیں۔اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاجی طلاب کو ہڑتال ختم کرکے معمول کا کام شروع کرنے پر زور دیا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جب تک حکومت اس سلسلے میں وضاحت نہیں کرتی کہ زرعی یونیورسٹی سے  ہارٹی کلچر شعبے کو الگ نہیں کیا جائے گااور اضافی عملے کو تعینات کیا جائے گا،تب تک انکی ہڑتال جاری رہے گی۔جموں و کشمیر بے روزگار زرعی گریجویٹ ایسوی ایشن کے بینر تلے منعقد کئے گئے احتجاجی دھرنے میں شامل طلاب نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی سے عملے کو تبدیل کرنے سے ان کی تعلیم پر کافی اثر پڑے گا۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل طالب علموںنے بتایا کہ ’ہم ہارٹیکلچر یونیورسٹی کے قیام کے خلاف نہیں ہے مگر ہارٹیکلچر یونیورسٹی کو زرعی یونیورسٹی کی قیمت پر قائم نہیں کیا جانا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت اگر ہارٹیکلچر یونیورسٹی قائم کرنا چاہتی ہے تو حکومت کو نئے عملے کی بھرتی کرنا چاہئے کیونکہ عملے کی تبدیلی سے زرعی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلاب کو نقصان ہوسکتا ہے۔