زرد انقلاب وقت کی اہم ضرورت

اتل چترویدی
خوردنی تیل کی درآمدات گزشتہ سال مجموعی طور پر 165 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے کے ساتھ ہی، یہ بات سب کے لیے حیران کن ہوسکتی ہے  کہ ہندوستان پچھلی صدی کے نوے کی دہائی میں خوردنی تیل میں معقول حد تک خود کفیل تھا۔ ہماری خوردنی تیل کی درآمد معمولی سی یعنی 3.0 لاکھ ٹن تھی۔ تاہم، سبز انقلاب کے آغاز کے بعد، گندم اور چاول کے تئیں میں ہمارے عزم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہندوستان تیل کے بیجوں کی قیمت پر ان اجناس میں سرپلس  پیداوار کرنے وا لا بن گیا ہے۔
متزلزل سوچ  معدوم ہوئی دہائیاں
تقریباً دو دہائیاں پہلے، میں نے ایک بہت ہی سینئرسرکاری اہلکار کے ساتھ، تیل کے بیجوں کے شعبے کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک پر ایک دلچسپ بات چیت کی تھی۔ ان کے جواب نے اس وقت کے پالیسی ساز حلقوں میں بنیادی فکری وجوہات کا خلاصہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے نے خوردنی تیل کی فراہم کے سلسلے کو برقرار رکھنے کا اتنا شاندار کام کیا ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ تیل کے بیجوں کی ترقی کی ضرورت نہیں ہے۔ اجناس کی کم قیمتوں کے سالوں نے، فیصلہ سازوں کو خوش فہمی میں مبتلا کر دیا تھا اور اس کی عکاسی ترجیحات کا فیصلہ کرنے میں ہوئی۔
اس متزلزل سوچ کے نتیجے میں، درآمدات پر ہندوستانی انحصار ہماری کھپت کے تقریباً 60 سے65 فیصد تک بڑھ گیا، جس نے ہماری خوردنی تیل کے تحفظ کے ساتھ سنجیدگی سے سمجھوتہ کیا۔ درآمدی بل اب تقریباً 1.4 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے اور سال بہ سال بڑھ رہا ہے۔ ہمارے خیال میں خوراک کے تحفظ کا مطلب ، صرف گندم اور چاول کی حفاظت کرنا نہیں ہے، کیونکہ آپ کو اپنا کھانا مکمل کرنے کے لیے دالیں اور خوردنی تیل ،دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
کئی سالوں کے دوران، تیل کے بیجوں کے شعبوں کو نظر انداز کرنے کی غلطی نے، ہمیں اس وقت معمول سے نیچے پہنچا دیا جب کووڈ نے حملہ کیا تھا۔ انڈونیشیاکی جانب سے اپنی مقامی مارکیٹ کے تحفظ کے لیے، پام آئل کی برآمدات پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد، ہندوستان میں خوردنی تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی تھیں۔ صورتحال واقعی تشویشناک ہوگئی تھی اور خوردنی تیل کی قیمت تقریباً 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ تیل کے بیجوں کی قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا اور سویا بینز کا لین دین 10000 روپے فی کلوگرام پر ہوا، جس نے فیصلہ سازی کے حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجائی دی۔
حکومتی اقدامات
مودی جی کے زیر قیادت موجودہ حکومت نےوقت کے تقاضے کو سمجھ لیا اوراس کے نتائج کو محدود کرنے اور عام آدمی کو زیادہ متاثر نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے، حرکت میں آئی۔ فیصلہ کرنے اور فوری عمل کرنے کی اصلاح کرنے کی رفتار مثالی تھی۔ میں چار دہائیوں سے زائد عرصے سے خوردنی تیل اور تیل کے بیجوں کے کاروبار میں ہوں، لیکن حکومتی عہدیداروں کی طرف سے ایسا فعال انداز کبھی نہیں دیکھا۔ کووڈ اور کووڈ کے بعد کی مدت دوران، ان پریشان کن اوقات میں مدد فراہم کرنے والے بعض اقدامات کو دوبارہ بیان کرنا غلط نہیں ہوگا۔کبھی کبھی کوئی سوچتا ہے کہ اگر حکومتی فیصلہ سازی کی معمول کی رفتار ہوتی تو ہم ان کہی انسانی مصائب کے گواہ ہوتے۔
– اس وقت کے خوراک کے سکریٹری اور ان کی ٹیم نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن کوشش کہ سپلائی متاثر نہ ہو۔ صنعت کے اہم کھلاڑیوں کے ساتھ زوم میٹنگز عملی طور پر ہر دوسرے دن منعقد کی جاتی تھیں اور مسائل کو تیز رفتاری سے حل کیا جاتا تھا۔ سچ پوچھیں تو سیکرٹری جے ٹی سے بات کرنا ایک نیا تجربہ تھا۔چونکہ سیکرٹری سطح کے افسران مستقل بنیادوں پر تقرری حاصل کرنے کے لیے ایک سرے سے دوسرے عہدے تک رسائی کرنے کے برخلاف ہوتے ہیں، اس لیے تبدیلی کی ہواؤں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
– اگرچہ درآمدات پر انحصار بہت زیادہ ہے، خوردنی تیل کے اخراج اور بندرگاہوں پر کلیئرنس میں 10 سے15 دن لگتے ہیں جس کے نتیجے میں فراہمی کے سلسلے میں خلل پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے فوری ضروری کارروائی نے دو دن کے اندر کلیئرنس کو یقینی بنایا۔
– خوردنی تیل کی درآمدی ڈیوٹی مکمل منظرنامے میں کم کردی گئی۔
– خوردنی تیل کے مینوفیکچررز سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی قیمتیں کم کریں اور ہماری ایسوسی ایشن -ایس ای اے نے قیمتیں کم کرکے، صنعت پر وقت کی ضرورت کو پورا کرنے پرزور دیا۔ صنعت نے فعال اور فوری طور پراس کا جواب دیا۔
– انڈونیشیا کے ساتھ سفارتی طور پر نمٹا گیا اور انہیں کچھ ہی وقت میں پابندی واپس لینا پڑی اور ان کے متعلقہ وزیر اس مسئلے کا اصلاحی حل لے کر ہندوستان آئے۔ دنیا کے لیے پیغام واضح تھا۔ہندوستان کے ساتھ رسہ کشی نہ کریں۔
– بحیرۂ اسود کے علاقے میں جغرافیائی-سیاسی تناؤ نے سورج مکھی کے تیل کی سپلائی کو بھی متاثر کیا۔ روس سے درآمدات شروع کرنے میں فعال کارروائی نے کم سے کم نقل مکانی کو یقینی بنایا۔
– وزیر اعظم نے طویل مدتی بنیادوں پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تجاویز حاصل کرنے کے لیے ممتاز کھلاڑیوں کی زوم میٹنگ بھی بلائی۔ یہ مصنف بھی مقررین میں سے ایک تھا اور اس نے تجاویز پیش کیں جو خوردنی تیل/تیل کے بیجوں میں آتمنربھرتا کے معاملے کو حل کرنے میں بہت کارآمد ہوسکتی ہیں۔
ان تمام اقدامات کا مطلوبہ اثر ہوا اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابل انتظام سطح پر لایا گیا۔
آتم نربھرتا کی طرف بڑھتے ہوئے
جب سے ہمارے وزیر اعظم نے پالیسی سازی کے حلقوں میں آتم نربھرتا کے لیے  واضح نعرہ دیا ہے، تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم ملک میں تیل کے بیجوں کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات دیکھتے ہیں۔
– ہندوستان میں پام کو فروغ دینے کے لیے 11000 کروڑ روپئے کی ابتدائی مختص رقم کے ساتھ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔
– تیل کے بیج سے متعلق قومی مشن کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا گیا ہے۔ ہمارے وزیر خزانہ نے اپنی عبوری بجٹ تقریر کے دوران، تیل کے بیجوں کے مشن کے آغاز کا اعلان کیا، جو اس سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے ساتھ اب اس مسئلے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔
– اپیکس انڈسٹری ایسوسی ایشن ایس ای اے نے، جارحانہ طور پرسرسوں کے مشن کا آغاز کیا اور حکومتی تعاون سے، ہم اپنے ملک میں سرسوں کی پیداوار میں بڑے پیمانے پراضافہ دیکھ رہے ہیں۔ کچھ سال پہلے اس کی پیداوار 7.0 ملین ٹن کے لگ بھگ تھی اور اب یہ 12.0 ملین ٹن کو چھو رہی ہے۔ سرسوں کو ہمارا نجات دہندہ کہنا بے جا نہیں ہوگا۔
– تیل کے بیج کے شعبے کو درپیش سب سے بڑے مسائل میں سے ایک کم پیداواری صلاحیت ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں غیرسرکاری تنظیموں اور کارکنوں نے جی ایم آئل سیڈز کو متعارف کرانے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی تھی، جس میں پیداوار میں اضافہ کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ یہ اس حکومت کا ایک تعریفی عمل ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دیا ہے کہ تیل کے بیجوں میں جی ایم کی مخالفت کرنا، ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ سازی، تیل کے بیجوں میں آتمنربھرتا کی کوششوں میں معاون مدد فراہم کرے گی۔
ہماری متحرک اور عمل پر مبنی قیادت کے تحت، ہم آنے والے سالوں میں زمینی سطح پر مضبوط اور موثر کارروائی دیکھنے کے پابند ہیں۔ کبھی نہ ختم ہونے والی بحثوں کا وقت بہت گزر چکا ہے اور تیل کے بیجوں پر قومی مشن کے تحت، ٹھوس کارروائی وقت کی ضرورت ہے، تاکہ ہمارے ملک میں تیل کے بیجوں کی پیداوار پرنمایاں اثر پڑے۔ اگر ہم گڑبڑ کرتے رہے (موجودہ حکومت میں اس کا امکان نہیں) تو ہم مستقل طور پر برآمد کنندگان کے رحم و کرم پر رہیں گے اور ہماری سودے بازی کی صلاحیت پر سنگین سمجھوتہ کیا جائے گا۔
(مضمون نگارایشین پام آئل الائنس کے چیئرمین ہیں)