زبان کو نصاب میں شامل کرنا پہاڑی طبقہ کابنیادی حق

سرنکوٹ//پہاڑی کلچرل وویلفیئر فورم کے سابق چیئرمین سید مشتاق بخاری نے حکومت کو انتباہ دیاہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر اس نے اپنے فیصلے میں ترمیم کرکے پہاڑی زبان کو بھی تعلیمی نصاب میں شامل نہ کیاتو بڑے پیمانے پر ریاست گیر احتجاج کیاجائے گا۔ڈاک بنگلہ سرنکوٹ میں پہاڑی طبقہ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہاکہ طبقہ کی پہچان یہی زبان ہے جسے وہ سیاست کا شکار نہیں ہونے دیںگے ۔انہوںنے کہاکہ پہاڑی زبان کو سیاست کا نشانہ بنایاگیاہے لیکن وہ اس کے ساتھ ناانصافی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریںگے ۔ان کاکہناتھاکہ کوئی وہم وگمان بھی نہ کرے کہ پہاڑی زبان کے ساتھ کھلواڑ کرے گا۔بخاری نے کہاکہ اگر دیگر زبانوں کو نصاب میں شامل کیاگیاہے تو پھر پہاڑی زبان کو بھی نصاب کا حصہ بنایاجائے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت ایک قدیم زبان کو نظراندا ز کررہی ہے جس پر اس کے خلاف عوام میں شدید غم وغصہ پایاجارہاہے ۔انہوںنے پہاڑی طبقہ پر زو ر دیاکہ وہ اپنی زبان کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرے ۔انہوںنے کہاکہ یہ ایسی زبان ہے جس میں سکرپٹ بھی لکھی جاتی ہے اور اس کی اشاعت کاکام بھی بڑے پیمانے پر ہورہاہے جبکہ اس میں گیت سنگیت بھی گائے جاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ زبان کے خلاف ناانصافی پر جدوجہد کی جائے گی اور وہ آخری دم تک لڑائی لڑیںگے ۔بخاری نے کہاکہ اگر حکومت نے ایک ہفتے کے اندراندر اس کو نصاب میں شامل نہیں کیاتوپہاڑی طبقہ کے لوگ قومی شاہراہ بند کرکے احتجاج کریںگے اور ایک منظم تحریک شروع کی جائے گی جس میں سب لوگ شامل ہوںگے ۔انہوںنے پہاڑی لیڈران سے اپیل کی کہ وہ زبان کی بقاء کیلئے متحد ہوجائیں ۔بخاری نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ سابق حکومت کی طرف سے دی گئی پانچ فیصد ریزرویشن پر قانون پاس کرے اور طبقہ کو شیڈیول ٹرائب کادرجہ دیاجائے ۔اس موقعہ پر کالم نگارنذیر قریشی ،شبیر حسین شاہ ، محمد لطیف قاضی ، اظہر منہاس، طارق منہاس ،حمید منہاس، وحید حسین شاہ، عبدالحمید خان، حمید رانا ،فدا حسین شاہ، سنیل سہگل ،اشفاق رانا،حاجی صادق قریشی ،مرزا رزاق،شفیع محمد ،عبدالمجید ،طاہر مرزا ،زاہد قریشی وغیرہ بھی موجودتھے ۔