’ریڈ فش ڈیجٹل میڈیا‘ کی کشمیرسے متعلق رپورٹ

 سری نگر//روس نے ایک روسی میڈیا کی اُس رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس میں کشمیر کو ایک اور فلسطین کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اپنے اِس موقف کو دہرایا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کا دو طرفہ معاملہ ہے۔جے کے ین  ایس کے مطابق یہ بیان ریڈ فش ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹ کے کشمیر پر ایک نئی دستاویزی فلم کا ٹریلر ٹویٹ کرنے اور اس الزام کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک لائن کو ٹویٹ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ٹویٹر پر ریڈ فش میڈیا کو ’روسی ریاست سے منسلک میڈیا‘کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔روسی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ، ’’مسئلہ کشمیر پر روس کا سرکاری موقف اور دو طرفہ تنازعات میں عدم مداخلت پر روس کا اصولی موقف بدستور برقرار ہے‘‘۔اس میں کہا گیا ہے، ’’اس کا حل صرف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تلاش کیا جانا چاہیے اور اس کی بنیاد گزشتہ معاہدوں پر ہونی چاہیے، جس میں1972 کا شملہ معاہدہ اور 1999 کا لاہور اعلامیہ بھی شامل ہے‘‘۔روسی سفارت خانے نے یہ بھی کہا کہ ٹویٹر پر ’روسی ریاست سے منسلک میڈیا‘ کے طور پر چینل کا ’گمراہ کن لیبل‘ خود بخود کسی بھی ریاستی حمایت سے متعلق نہیں بناتا ہے۔ سفارت خانے نے کہاکہ ریڈ فش ڈیجیٹل میڈیا اپنی ادارتی پالیسی کے حوالے سے آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔ تاہم امید ہے کہ اس اور دیگر علاقائی مسائل کی پیچیدگی اور تاریخی پس منظر کو مناسب فہم اور متوازن انداز میں پیش کیا جائے گا، جس کی کسی بھی پیشہ ور میڈیا سے توقع کی جاتی ہے۔اپنی ویب سائٹ پر، Redfish نے خود کو ایک کثیر ایوارڈ یافتہ ڈیجیٹل مواد تخلیق کار کے طور پر بیان کیا۔