ریچارج پر18 فیصد جی ایس ٹی نا قابل برداشت

 ریاسی//جموں و کشمیرسٹیٹ ہیومن رائٹس ڈویلپمنٹ کونسل کے چیئر مین اور ضلع ریاسی کے سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر طارق بٹ نے مرکزی و ریاستی سرکاروں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ موبائل ریچارج پر18%GSTکوئی انصاف نہیں ہے یہ قدم دیش کے130کروڑ لوگوں کو لوٹنے کی ایک گہری سازش ہے انہوں نے کہا کہ شاید ارون جیٹلی کو دیش کے پردھان منتری نریندر مودی سے جلن ہو رہی ہے اسی لیئے جیٹلی تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسا کارنامہ انجام دیتے ہیں جس کی وجہ سے دیش کی جنتا نریندر مودی کے خلاف آواز اٹھائے۔ طارق بٹ نے کہا کہ اگرGSTلگانا ہے تو کمپنیوں پر لگائیں جنہوںنے ریچارج کرنے کے پیسے وصول پائے ہیں ریچارج کروانے والا شخص آگے کسی گھر میں موت ہو تو اپنے رشتے داروں کو اطلع دینے کے لئے سرکاروں کو ٹکس دینا ہوگا کیاخوبصورت فیصلہ کیا ہے سرکاروں نے۔ انہوں نے کہا کہGSTلگانے سے دیش کی جنتا کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے آج دیش کا ہر انسان باہر کم سے کم5000/-روپے خرچ کرتا ہوگا اور ہر کنبہ کو لگ بھگ500/- روپے GSTسرکار کو دینا ہے اور جس کنبہ کا خرچہ ماہور5000/-ہزار ہوگا اسے تو5000/-روپے سرکار کو اپنے ہی نہیں ہر آدمی کو اس کی جانکاری نہیں ہوتی لوگ صبح سے شام تک جتنا سامان بزار سے خریدتے ہیں انہیں ہر آ ئٹم پرGSTدینا ہے یہGSTتو مرکزی سرکار حاصل کر ے گی اور اگر سٹیٹ گورنمنٹ نے اپنا ٹیکس بھی حاصل کرتا ہے تو پھر10000/-کی خریداری پر لوگوں کو کم سے کم2500/-روپے دونوں سرکاروں کو دینے ہیں یہ تو غریبوں کا خون چوسنے والی بات ہے طارق بٹ نے کہا کہ ریاست کے7000/-لوگ جو1500/-روپے تنخواہ پر سرکار کی نوکری کر رہے ہیں جن کو دو سال تنخواہ نہیں دی جاتی ہے ان سے بھی450/-روپے مرکزی سرکارGSTحاصل کرلے گی اور ریاستی سرکار کا ٹکس کیا یہ لوگ زندہ رہ سکیں گے یا دیش کے کسانوں کی طرح یہ بھی خود کشی کرنے پر مجبور ہوں گے بڑے شوق سے دیش کی جنتا BJPکی سرکار بنانی تھی۔