ریلوے کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کا الزام

گول// کٹرہ بانہال ریلوے لائن پر مختلف ریلوے تعمیری کمپنیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سی ایس آر کو خرد برد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پی ڈی پی کے ضلع صدر رام بن شہباز مرزا نے کہا کہ قریباً بیس سال ہوئے ہیں سنگلدان میں مختلف ریلوے تعمیری کمپنیاں کام کر رہی ہیں لیکن زمینی سطح کی صورتحال کی طرف اگر دیکھا جائے تو ان کی جانب سے عوامی فلاح بہبود کے لئے کوئی کام دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ یہاں پر اربوں روپیوں کا کام ہوا ہے لیکن ایک ہائر سکینڈری سکول کی عمارت، گول اور سنگلدان ہسپتالوں میں دو الٹرا ساونڈ مشینوں کے سوا کوئی کام نہیں ہو رہا ہے ۔ شہباز مرزا کا کہنا ہے کہ زمین کی کھدائی اور ٹنلوں کی تعمیر کی وجہ سے قدرتی ذخائر نیست نابود ہو گئے ہیں جس میں خاص کر کے پانی کے ذخائر ختم ہونے کی وجہ سے لوگ بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔
اندھ سے لے کر داڑم ، کوہلی اور بانہال تک سینکڑوں چشمے ریلوے ٹنلوں کی وجہ سے سوکھ گئے ہیں اور لاکھوں لوگ پینے کے پانی سے محروم ہو گئے ہیں ۔ شہباز مرزا کاکہنا ہے کہ سنگلدان بازار کی حالت کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ یہاں پر کوئی انتظامیہ نام کی چیز ہی نہیں ہے اور ریلوے حکام یہاں کی تباہی کی طرف کوئی حکام نہیں دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آر کے تحت ان کمپنیوں کو دو فیصد رقم عوامی فلاح بہبود جن میں ہسپتال ، سکول ، سڑکیں و دوسرے عوامی مسائل کو حل کرنے پر رقم صرف کرنی تھی لیکن اربوں روپے ریلوے تعمیری کام پر لگایا ہے لیکن سی ایس آر کے تحت جو کام ہوئے ہیں وہ نا کے برابر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ٹنلوں میں جو کیمیکل استعمال ہوتا ہے اس پانی کو کھلے عام ندی نالوں میں ڈالا جا رہا ہے جہاں ایک طرف سے زرعی اراضی کو اس سے شدید نقصان پہنچا ہے وہیں دوسری جانب اس پانی کو پی کر ہزاروں مویشی ہلاک ہوئے ہیں ۔ وہیں جنگلات کو کروڑوں اربوں روپے نقصان پہنایا گیا ہے لیکن کوئی اس پر اُف تک نہیں کہتا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ اندھ سے لے کر بانہال تک جو بھی اس ریلوے کے زد میں آئے ہیں اور جن لوگوں کو کافی نقصان ہوا ہے اور جو بستیاں آئی ہیں کوئی پُر ساں حال نہیں ہے ان کی طرف کوئی دکھتا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک اعلیٰ جانچ ہونی چاہئے تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ سی ایس آر کے تحت جو رقم لگانی تھی ان کمپنیوں کو وہ کہاں کہاں پر لگایا ہے ۔ وہیں اگر انتظامیہ کی مانیں تو انتظامیہ نے صاف الفاظ میں کہاکہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ۔ ایس ڈی ایم گول غیاث الحق نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے جو سی ایس آر کے تحت رقم خرچ کرتی ہی وہ پورے ضلع میں ان کا ایک ہی انتظام اور انصرام ہوتا ہے سب دویژن سطح پر ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے یہ ضلع سطح پر ہی تمام جانکاری ہوتی ہے ۔