ریلوے ٹنل پر مقامی زمینداروں کا دھرنا ایک ہفتے سے جاری

بانہال // ضلع رام بن کے آڑپنچلہ کھڑی سے سمبڑ تک کشمیر ریل پروجیکٹ پر13 کلومیٹر لمبا ریلوے ٹنل زیر تعمیر ہے اور اس کے پہلے فیز میں آڑپنچلہ کے سرن علاقے میں کھدائی کا کام مکمل کیا گیا ہے۔ اس ریلوے ٹنل کی تعمیراتی کمپنی مزدوری فراہم کرنے کے معاملے میں متاثرہ زمینداروں اور مستحق افراد کو یکسر نظر انداز کررہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے اِس ریلوے ٹنل کا کام پچھلے ایک ہفتے روز سے روک رکھا ہے۔ دھرنے پر بیٹھے لوگوں جن میں بیشتر متاثرہ زمیندار ہیں کا کہنا ہے کہ اْن کے کھیت ، کھلیان ، مکان اور باغات اس ریلوے ٹنل کی زد میں آکر تباہ ہوئے ہیں اور تعمیراتی کمپنی اِفکان متاثرہ زمینداروں اور مقامی ہنر مند افراد کے بجائے بیرون ریاستی لوگوں کو کام فراہم کرکے اْن کے حق پر شب خون مار رہی ہے۔ مشاق احمد نائیک نامی ایک متاثرہ زمیندار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کی پچی کنال کی ملکیتی اراضی ریلوے ٹنل پروجیکٹ میں آئی ہے اور میرے مکان کو پانچ لاکھ روپئے کا معاوضہ دیا گیا جبکہ مجھے نیا مکان خریدنے میں آٹھ لاکھ روپئے کی رقم ادا کرنا پڑی ہے۔ انہوں نے کہا میں آٹھ بچوں کا باپ ہوں اور زمین چلی جانے کے بعد بچوں کی پڑھائی روک کر انہیں بھی مزدوری پر لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مزدوری چاہتے ہیں اس لئے بیرون ریاستی مزدروں کے بجائے انہیں ترجیح دی جائے۔ دھرنے پر بیٹھے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب بھی مقامی لوگوں نے روزگار کے بارے میں اپنی آواز اٹھائی تو افکان کمپنی کا یہاں تعینات افسر ایکدم پولیس کو بلاکر غریب زمینداروں کو تھانے پہنچاتے ہیں اور اب تک مقامی لوگوں کے خلاف حق مانگنے کی پاداش میں کئی کیس درج کئے گئے ہیں۔بانہال کے کھڑی علاقے سے رام بن کے سمبڑ تک تعمیر کئے جانے والا یہ ریلوے ٹنل ہندوستان کا سب سے لمبا ریلوے ٹنل بن کر تیار ہوگا اور اس ٹنل کے مکمل ہونے سے کٹرہ اور بانہال کے درمیان ریل سروس کو شروع کرنے میں مزید جلدی ہوگی۔اس سلسلے میں کوشش کے باوجود ریلوے AFFCON کا کوئی افسربات کرنے کیلئے تیار نہیں ہوا۔ تاہم آج اس سلسلے میں سب ضلع انتظامیہ اور تعمیراتی کمپنی اِفکان کے درمیان کھڑی میں منگل کو ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں مقامی لوگوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور لوگوں کا ایک وفد بھی ڈپٹی کمشنر رام بن سے ملاقائی ہوا۔ ڈپٹی کمشنر نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں انہوں نے تحصیلدار کھڑی کو مزید کاروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔