ریلوے ٹنلوں کی تعمیر سے کھڑی اور سمبڑ کے علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت

بانہال// ضلع رام بن کی تحصیل کھڑی کے سرن علاقے سے رام بن کے سمبڑ علاقے میں تک ہندوستانی ریلوے کا سب سے بڑا ریلوے ٹنل زیر تعمیر ہے اور اس ساڑھے تیرہ کلومیٹر لمبے زیر زمین ٹنل کی وجہ سے درجنوں دیہات میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور صدیوں کے چشمے اور آبی وسائل غائب ہوگئے ہیں۔ تحصیل رام بن کے سمبڑھ ، ، بجھمستہ ، ورنال ، بدرکوٹ ، کھڑی آڑپنچلہ کنڈن اور سرن کے علاقوں کے لوگوں کا الزام ہے کہ تعمیراتی کمپنیاں وقت گزاری کر رہی ہیں اور ان کی طرف سے زیر تعمیر ریلوے کے کئی ٹنلوں کی وجہ سے لوگوں کو درپیش مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کمپنی افکان ، ایچ سی سی اور گیمن انڈیا کی کمپنیوں کی طرف سے ریلوے ٹنلوں کی کھدائی کی جارہی ہے اور پروجیکٹ کی زد میں آئے والے علاقے مصائب کا شکار ہوئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پینے کے پانی کے علاوہ چلنے کیلئے راستوں سے محروم ہوئے لوگوں کے حالات زار پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور کمپنیاں من مرضی کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرن ، کنڈن ، ورنال اور سمبڑ کی بستیوں میں پہنے کے پانی کی قلت ہے اور موڑوں اور گاؤں کو آنے والے راستے تعمیراتی کمپنیوں نے اجھاڑ کر رکھے ہیں اور CSR یا کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت بھی پروجیکٹ کی زد میں آئے بانہال، کھڑی ، سمبڑ اور سنگلدان کے علاقوں میں کسی بھی قسم کی تعمیر و ترقی کا کوئی کام انجام نہیں دیاگیا ہے البتہ کسی سیاسی کارندے نے CSR کے تحت کوئی ذاتی فائیدہ لیا ہو تو وہ بات الگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستانی ریلوے کے زیر تعمیر سب سے لمبے ٹنل کی زد میں آنے والے علاقوں میں عوامی مشکلات کے ازالے کا کئی بار مطالبہ کیا گیا لیکن نہ ریلوے تعمیراتی کمپنی ارکان انٹرنیشنل اور ناہی انتظامیہ کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہو پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیر زمین ٹنلوں کی رسائی کیلئے ناچلانہ کھڑی مہو سڑک کی حالت تعمیراتی کمپنیوں کی بھاری بھرکم مشینری نے تباہ کر رکھی ہے اور عام تو عام لوگ ضلع ترقیاتی کونسل ممبر کھڑی سجاد حسین نے کئی بار ارکان انٹرنیشنل سے ناچلانہ – کھڑی اور منڈکباس تک کمپنیوں کے زیر استعمال سڑک رابطے کی بہتری کی طرف توجہ مبذول کرائی مگر ارکان انٹرنیشنل نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اور ارکان انٹرنیشنل اپنا وقت نکال رہے ہیں اور لوگوں اور انتظامیہ کے ساتھ بار بار جھوٹے وعدے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ریل پروجیکٹ کے حصے میں بانہال ، کھڑی اور سمبڑ کے درمیان ریلوے ٹنلوں اور دیگر کام کو آئندہ دو برسوںمیں مکمل ہونے کی امید ہے اور کمپنیوں کے چلے جانے کے بعد ان علاقوں میں ریلوے پروجیکٹ کی وجہ سے لوگوں اور ماحولیات کو پہنچنے نقصانات کی برپائی ممکن نہیں ہو پائے گی اور ارکان انٹرنیشنل اور کمپنیوں نے بھی اسی طریقہ کار کو اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ اور جل شکتی محکمہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کھڑی اور سمبڑ کے درمیان عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے فوری اقدامات کریں تاکہ پانی کی قلت کی وجہ سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔