ریلوے ٹنلوں سے متاثرہ کنبوں کو معاوضہ ادا کرنے میں تاخیر

بانہال//بانہال کے بنکوٹ علاقے میں لوگوں نے ریلوے تعمیراتی کمپنی کی طرف سے رہائشی مکانوں کا معاوضہ ادا کرنے میں کی جارہی تاخیر کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرے کیا اور پرامن دھرنا دیکر دو ریلوے ٹنلوں کے اندر جاریںکام۔کو روک دیا ۔ پرامن احتجاج مظاہرے پر بیٹھے احتجاجیوں کی قیادت سرپنچ بنکوٹ اور سیاسی و سماجی لیڈر محمد الیاس بانہالی کر رہے تھے جبکہ مقامی پنچایتی نمائندوں اور متاثرین کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی ۔ اس موقع پرذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سرپنچ بنکوٹ محمد الیاس بانہالی نے بتایا کہ وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے بنکوٹ علاقے میں ریلوے ٹنلوں کے اندر کی گئی بلاسٹنگ کی وجہ سے نقصانات سے دوچار رہائشی مکانوں کا معاوضہ ادا کرنے کی مانگ کررہے ہیں مگر ارکان انٹرنیشنل اور تعمیراتی کمپنیاں اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنکوٹ کے متاثرین کی مانگ ہے کہ ڈپٹی کمشنر رام بن کی طرف سے اس بارے میں ارکان انٹرنیشنل کو دی گئی ہدایات کو عملایا جائے اور فوری طور پر مستحقین کا معاوضہ ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ زیر تعمیر ریلوے ٹنل نمبر 77اور 78کی زد میں پندرہ میٹر کے اندر آنے والے متاثرین کے ساتھ ساتھ پندرہ میٹر سے باہر آنے والی بستیوں کو نقصان کا معاوضہ ادا کرنے میں کی جارہی آنا کانی سے بنکوٹ ،ہرگام ، درمنن اور کوٹس وغیرہ کے لوگ پریشان ہیں اور پچھلے ڈیڑھ سال سے ارکان انٹرنیشنل اور تعمیراتی کمپنی نے لوگوں کے اس سلگتے مسئلے کو پس پشت ڈال رکھا ہے اور اجکل کرکے ان کے حقوق کو لگاتار دبایا جارہا ہے۔ الیاس وانی نے کہا کہ وہ قومی پروجیکٹ کے مخالف نہیں ہیں لیکن ان کے لوگوں کے حق کو کسی بھی صورت میں غصب نہیں ہونے دیا جائیگا اور اس کیلئے جدو جہد جاری رہے گی۔ بعد میں یہ احتجاجی پر امن طور منتشر ہوگئے۔ریلوے ٹنلوں سے متاثرین نے بعد میں ڈاک بنگلہ بانہال میں ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام سے بھی ملاقات کی اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر رام بن نے ان کے مسائل غور سے سننے کے بعد مناسب کاروائی کی یقین دھانی کرائی۔ اس سے پہلے منگل کی صبح بنکوٹ گاں کے احتجاجیوں نے ریلوے ٹنل نمبر 77اور 78کے اندر باہر جاری تعمیراتی کام کو روک دیا ہے اور یہ سلسلہ منگل شام تک جاری تھا اور ایس ڈی ایم بانہال ظہیر عباس نے احتجاجی مظاہرین سے کام دوبارہ شروع کرنے کی اپیل ہے تاہم منگل شام سات بجے تک دونوں ریلوے ٹنلوں پر کام رکا ہی تھا ۔