ریلوے سٹیشنوں کی بے مثال تجدید کاری فکر و ادراک

ڈی جے نارائن
بھارت میں ریلوےسٹیشن ملک کے تقریباً ہر فرد کی یادوں کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔یہ نہ صرف ملک کے بنیادی ڈھانچے کی صورت حال اور ٹرانسپورٹ و سفر اور لاجسٹکس کی اہم علامت ہیں، بلکہ ملک کے وژول تعمیراتی منظرنامے کا ایک اہم عنصر بھی ہیں۔2کروڑ سے زیادہ بھارتی روزانہ ان اسٹیشنوں سے سفر کرتے ہیں لہٰذا بھارت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید شکل دینے اور اپنے لاکھوں عوام کے روزانہ کے سفر کو بہتر بنانے کے لیے جس طرح کی کوششیں اب کی جارہی ہیں وہ کبھی نہیں کی گئیں۔
چوں کہ بھارت کئی ٹریلین ڈالر والی معیشت کی جانب پیش قدمی کا عزم کیے ہوئے ہےلہٰذا ریلوے سٹیشنوں کو دھول مٹی،گندگی اور کثافت کے ڈھیر سے آرام دہ سفر کے صاف ستھرے مرکز قومی فخر اور وراثت نیز عالمی درجہ کی سہولیات کا مرکز بنانے کے لیے انہیں تبدیلی کرنے کا مشن حقیقت میں قابل تحسین ہے۔ اس مشن کے حیرت انگیز نتائج مرتب ہوناشروع ہوگئے ہیں۔ یہ جدید ریلوے سٹیشن کسی ایسے ملک کے نمائندہ ہیں، جو تیزی سے نہ صرف جدید شکل اختیار کررہے ہیں بلکہ ایک ایسی حکمرانی کے عکاس بھی ہیں، جو اپنے شہریوں کی فکر کرتی ہے۔ بھارتی ریلویز کا سفرایسا ہے جیسے بھارت کا سفر کسی ملک کے طور پر۔
2014 سے پہلے جدید کاری کے نام پر مسافروں کی سہولیات کو بہتر بنانے اور بھیڑ بھاڑ والے معدودے چند پرہجوم ریلوے سٹیشنوں کی ، شبیہ میں بہتری لانے کی الگ الگ کوششیں کی جارہی تھیں۔2014کے بعد پورے بھارت میں ریلوے سٹیشنوں کی جدید کاری، ریلوے کی وزارت کا ایک ترجیحی ایجنڈا بن گئی۔اب اس ایجنڈے پر حکومت کی طرف سے پورے زور شور سے عمل درآمد کیا جارہاہے۔
گجرات میں گاندھی نگر ریلوے سٹیشن ، ایسا پہلا اسٹیشن ہے جس کی 2021یں جدید کاری کی گئی تھی۔ بعد میں اسی سال رانی کملا پتی ریلوے سٹیشن (جسے اس سے پہلے حبیب گنج کہا جاتا تھا)بھارتی ریلویز کا پہلا ایسا ریلوے سٹیشن ہے جسے جدید بنایا گیا ہے۔2022یں مرکزی کابینہ نے تین ریلوے سٹیشنوں نئی دہلی ریلوے سٹیشن، احمد آباد ریلوے سٹیشن اور چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنلس (سی ایس ایم ٹی) ممبئی کی جدید کاری کی منظوری دی گئی، جس کی لاگت تقریبا! 3 ہزارکروڑ روپے ہے۔مرکز نے اب امرت بھارت سٹیشنوں کے طور پر ملک میں 1300سے زیادہ ریلوے سٹیشنوں کو یکسر تبدیل کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس مشن کو اگست 2023یں اس وقت حوصلہ ملا جب وزیراعظم نریندرمودی نے پورے ملک میں 508ریلوے اسٹیشنوں کی جدید کاری کے کام کا سنگ بنیاد رکھا۔24470کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت پر جدید کاری کا یہ کام کیا جارہا ہے۔یہ 508سٹیشن 27ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں واقع ہیں، جن میں اترپردیش اور راجستھان میں 55-55، بہار میں 49، مہارارشٹر میں 44، مغربی بنگال میں37، مدھیہ پردیش میں 34، آسام میں 32، اوڈیشہ میں 25، پنجاب میں 22، گجرات اور تلنگانہ میں 21-21، جھارکھنڈ میں 20، آندھراپردیش اور تامل ناڈو میں 18-18، ہریانہ میں 15، کرناٹک اور دیگر جگہوں پر 13سٹیشن ہیں۔
آج جو نتائج دیکھے جارہے ہیں وہ خاص طور سے2019سے کی جانے والی بہت سی کوششوں اور انتظامی اقدامات کی وجہ سے مرتب ہورہے ہیں۔ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے یہ کہتے ہوئے ایک ریکارڈ بیان کیا ‘‘ ہمارے وزیراعظم کا سٹیشنوں کی جدید کاری کے لیے ایک وسیع نظریہ ہے۔جب ہم اصل ڈیزائن لے کر گئے تو انہوں نے ان ڈیزائنوں کو منظور نہیں کیا۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ سٹیشنوں کو اگلے 50سال کے لیے ڈیزائن کیجئے، لہٰذا ہم نے ایک بار پھر پورا کام دوبارہ کیااور اس کے بعد تعمیراتی کام شروع کیا لہٰذا ہم اب اسٹیشنوں کی جدید کاری کے دنیا کے سب سے بڑے پروگرام پر کام کررہے ہیں۔اب 1309سٹیشنوں کی جدید کاری کی جارہی ہے۔
ریلوے سٹیشنوں کی جدید کاری یا دوبارہ جدیدکاری کاکام اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی پیچیدہ ہے، جس میں مسافروں اور ریل گاڑیوں کی حفاظت بھی شامل ہے اور اس میں آگ بجھانے والے عملے، وراثت، شجرکاٹنے کے محکمہ ، ہوائی اڈہ سے منظوری جیسی مختلف قانونی منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پیش رفت کا یہ کام بے کار پڑی ہوئی جگہوں کے چیلنجوں کی وجہ سے متاثر ہوا جیسے کچھ تعمیرات کی منتقلی، کچھ جگہوں کی توڑ پھوڑ، مسافروں کی آمدورفت میں بغیر کوئی رکاوٹ ڈالے ریل گاڑیوں کی آمدورفت، ہائی وولٹیج پاور لائنوں کے قریب کیے جانے والے کاموں پر بندش وغیرہ ۔ سٹیشنوں کے فروغ کے کام کے لیے متعلقہ حکام سے منظوری حاصل کرنے کے لیے، شہری/ مقامی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں، ماہرین اور افسران کے ساتھ وسیع صلاح مشورہ کیاگیا۔
1300 سے زیادہ ریلوے سٹیشنوں کی جدید کاری ایک بڑا کام ہےاور ان سٹیشنوں کی سائنسی طرز پر تیزی سے اور جلد کیے جانے والے جدیدکاری کا کام سب کی شمولیت کے ساتھ کیا جانا والا کام ہے۔ٹینڈرجاری کرنے سے پہلے مختلف سطحوں پر پورے تبادلہ خیال کے ساتھ یہ ڈیزائننگ کا کام کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ایک معیاری ٹینڈر دستاویز محفوظ کیا گیا ہے اور اس سے سبھی کو واقف کرایا گیا ہے تاکہ اس کام کی تکمیل مقررہ وقت پر کیے جانے کو یقینی بنایا جاسکے۔بھارتی ریلویز نے جدید کاری کے اس کام کو جلد سے جلد کرنے کے لیے بھارتی ریلوے سٹیشنوں کی ترقی سے متعلق کارپوریشن کے حوالے کردیا ہے۔سبھی ڈویزنوں اور زونل دفتروں نے اس میدان کے ماہرین ، تعمیراتی ماہرین  اور دیگر ایجنسیوں کو فہرست میں شامل کیا ہے۔اس کے لیے زون اور ہیڈ کوارٹر میں گتی شکتی ڈائریکٹوریٹس کی تشکیل کے ساتھ ساتھ9ہزار سے زیادہ اہلکاروں کی تربیت کا بھی انتظام کیا ہے تاکہ اس کام کو تیز رفتاری سے پورا کیاجاسکے۔
اس سکیم میں ماسٹر پلانس کی تیاری اور مرحلے وار طریقے سے اس پر عمل درآمد بھی شامل ہے تاکہ ہر ایک سٹیشن پر درکار سہولت کے پیش نظر ، سٹیشنوں تک رسائی میں بہتری، سرکولیٹنگ علاقوں، ویٹنگ ہال، بیت الخلاء، جہاں کہیں لفٹ /ایسکلیٹرکی ضرورت ہو، صفائی ستھرائی، مفت وائی فائی اور ‘‘ایک سٹیشن -ایک چیز’’ مقامی مصنوعات کے لیے کیوسک وغیرہ مسافروں کو فراہم کی جانے والی، بہتر جانکاری کا نظام، ایگزیکٹیو لاؤنجیز، بزنس میٹنگ کے لیے نامزد جگہوں، خوب صورت مناظر وغیرہ کی فراہمی کی جاسکے۔
اس سکیم میں عمارت میں بہتری لانا، سٹیشن کو شہر کے دونوں اطراف سے مربوط کرنا، سٹیشن کو کئی پہلوؤں سے مربوط کرنا، معذور افراد کے لیے سہولیات اور دیرپا نیز ماحول دوست طریقہ کار وغیرہ کی بھی بات کہی گئی ہے۔ہر ایک سٹیشن پر ایک وسیع روف پلازہ بھی ہوگاجس پر مسافروں کے لیے سبھی سہولیات ایک جگہ مہیاہوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ خردہ فروشی، کیفیٹیریا اور تفریحی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی ۔ ٹریفک کی بلارکاوٹ آمدورفت کے لیے ایک منصوبہ بھی تیارکیا گیا ہے، جس کے تحت وافر پارکنگ سہولت بھی مہیا کی جائے گی اور میٹرو، بس وغیرہ جیسے ٹرانسپورٹیشن کے دیگر ذرائع سے اسے جوڑنے کو یقینی بنانے کی کوششیں بھی کی جائیں گی۔گرین بلڈنگ ٹیکنکس کا استعمال کیا جائے گا، جس میں شمسی توانائی، پانی کے تحفظ /ری-سائیکلنگ اور مناسب شجرکاری بھی شامل ہے۔سٹیشنوں پر آمداور رخصت کے لیے الگ الگ جگہیں ہوں گی، ہلچل سے پاک پلیٹ فارمز ہوں گے۔ پلیٹ فارم پر بہتر جگہیں فراہم کی جائیں گی اور پلیٹ فارم پر پوری طرح چھت بھی مہیا کرائی جائے گی۔ بھارتی ریلوےسٹیشنوں کی اس بے مثال تبدیلی سے ہربھارتی کا سرفخر سے اونچا ہوگااور ہرسیاح کو اس تیز رفتاری سے کی جانے والی تبدیلی پر حیرت ہوگی۔
(مضمون نگارپی آئی بی کے سابق ڈائریکٹر جنرل/چیئرمین کلاکلیپ ٹیکنالوجیز، سی ای او سٹیج کرافٹس پرائیویٹ لمیٹڈہیں۔)