ریلوے اور فور لین شاہراہ ٹنلوں کی تعمیر

بانہال // بانہال اور رام بن میں ریلوے لائین اور فورلین شاہراہ پروجیکٹوں کی زد میں آنے والے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کے لاتعداد ذخائرریلوے اور فورلین ٹنلوں کی تعمیر کی وجہ سے ناپید ہوگئے ہیں اور کھڑی، سمبڑھ ، امکوٹ چاپناڑی اور سنگدان علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت کی وجہ سے لوگوں مشکلات کاسامنا ہے۔ ریلوے ٹنلوں کی طرح بانہال۔ قاضی گنڈ فورلین ٹنل کی تعمیر کی وجہ سے بھی بانہال کے ٹھٹھاڑ ، گنڈ اور نوگام کے علاقوں کو پینے کے پانی کی کمی کا سامنا ہے اور کسی بھی علاقے میں فلٹر یشن پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ندی نالوں کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ریلوے ٹنلوں سے بْری طرح متاثر ہوئے تحصیل کھڑی ، آڑپنچلہ اور ٹھاچی امکوٹ ، ٹٹنی ہال کے کئی دیہات میں پینے کی پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے ریلوے لائن کو تعمیر کرنے والی کمپنی ارکان انٹرنیشنل نے پی ایچ ای ڈویڑن بانہال کو تین کروڑ اور نواسی لاکھ روپے کی رقم  پی ایچ ای کی طرف سے تیار کی گئی پروجیکٹ رپورٹ کے مطابق واگذار کی ۔محکمہ پی ایچ ای بانہال کا کہنا ہے کہ تین الگ الگ واٹر سپلائی سکمیوں پر کام جاری ہے اور اگست 2019 تک  ان سکیموں کے مکمل ہونے کی امید ہے۔ کھڑی کے مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے ٹنلوں کی تعمیر کی وجہ سے کھڑی،آڑپنچلہ ، سرن ، کرالحال، داچھاڑ ، منجوس ، آوڑکہ ، پانچل ، ہنجوس ، نادکہ ،امکوٹ ، ٹٹنی ہال ، سمبڑھ اور سنگلدان کے بیشتر علاقوں میں درجنوں قدرتی  چشمے اور تالاب سوکھ گئے ہیں اور ہزاروں کی آبادی کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کو بھی پینے کے پانی کی تلاش میں روز روز دور دور تک بھٹکنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھڑی میں زیر تعمیر کئی ریلوے ٹنلوں کی تعمیر میں بلاسٹنگ کیلئے استعمال  کئے جانے والا بارودی مواد کا زہریلا پانی اور ٹنلوں سے نکلنے والے بارودی مواد سے آلودہ ملبے کو مہو منگت ندی میں اور اس کے کناروں پر ڈالا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ پانی بھی عوام ، مال مویشیوں اور آبی حیات کیلئے خطرناک بنا ہوا ہے۔ انہوں نے ریلوے حکام اور افکان نامی تعمیراتی کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹنلوں سے نکلنے والے زہریلے پانی کی نکاسی کیلئے ٹنلوں سے ناچلانہ تک پائیپ لائین بچھا کر اس زہریلے پانی کو بائی پاس کیا جائے تاکہ کھڑی آڑپنچلہ سرن وغیرہ کی آبادی کیلئے نالہ مہو منگت کا شفاف پانی پھر سے قابل استعمال بن سکے۔  انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ منظور کی گئی واٹر سپلائی سکیموں کے مکمل ہونے تک لوگوں کیلئے پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے کوئی متبادل انتظام کیا جائے تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔  اس سلسلے میںایگزیکیٹیو انجینئر پی ایچ ای سب ڈویڑن بانہال نے کہا کہ تحصیل کھڑی اور اس کے ملحقہ علاقوں تک پینے کا پانی پہنچانے کیلئے ارکان انٹرنیشنل نے تین الگ الگ سکیموں کیلئے  3 کروڑ 89 لاکھ روپے کی رقم واگزار کی ہے اور تیار کئے گئے منصوبے کے مطابق تین میں سے ایک واٹر سپلائی سکیم کو تقریبا مکمل کیا گیا ہے اور دو سکیموں پر شد و مد سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا ان تینوں سکیموں کو آئندہ سال اگست 2019 تک مکمل کیا جائے گا اور ریلوے ٹنلوں کی تعمیر سے متاثر ہوئے کھڑی اور بانہال کے ٹھاچی امکوٹ ٹٹنی ہال  کے وسیع علاقوں کو فلٹر کیا ہوا  پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔