ریسرے پورہ پٹن 30 برسوں سے پینے کے صاف پانی سے محروم

 بارہمولہ //شمالی قصبہ پٹن کا ایک گاؤں گذشتہ 30 برسوں سے پینے کے صاف پانی سے محروم ہے اور ہزارںنفوس پر مشتمل آبادی پانی کی ایک ایک بوندبوندکیلئے ترس رہی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر چہ پانی یہاں تک پہنچ جاتا ہے ، لیکن یہاں کی آبادی کیلئے کافی نہیں ہے ، اب وقت کے ساتھ ساتھ آبادی کی تعداد میں اضافہ ہوا تاہم پانی کی فراہمی میں ابھی تک اضافہ نہیں کیا گیا ہے ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ 40 سال پہلے یہاں قریب 40 گھرانے رہائش پذیرتھے اور اب 250 کے قریب ہیں لیکن پانی کی فراہمی جوں کی توں ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے 30 سالوں سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے ایک نئی پائپ لائن کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ حکومت نے کئی بار گنڈاری نالہ سے ریسرے پورہ تک واٹر سپلائی اسکیم کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن کبھی عملی شکل نہیں دی جاسکی ۔ گاؤں کے نمبردارعبد الرشید پرے نے کہا ’’گنڈاری نالہ سے ریسر ے پورہ تک اسکیم کو ترقی دینے کے لئے 2009 میں حکومت نے منصوبہ بنایا تھا جس کے بعد کئی بار حکام نے ہمیں یقین دلایا لیکن کچھ نہیں ہوا ‘‘۔انہوں نے کہا’’ اس کام کے لئے ایک ڈی پی آر بھی تیار کیا گیا لیکن عملی جامہ نہیں پہنایا گیا‘‘۔ غلام محی الدین شیخ نامی ایک شہری نے کہاکہ 2004 میں ڈی سی بارہمولہ نے پائپوں کی تبدیلی اور اپ گریڈنگ کیلئے کوشش کی لیکن صاف پانی کی فراہمی ہنوز ایک خواب ہے۔ایگزیکٹو انجینئر جل شکتی محکمہ بارہمولہ چوہدری عبدالقیوم نے اس ضمن میں بتایا کہ کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے کام شروع نہیں ہوسکا ہے تاہم اُمید ہے کہ آنے والے وقت میں  علاقے میں مسئلہ حل ہوگا ۔