ریاسی کے دھارمک اور سیاحتی مقام پر چٹانیں کھکسک آئیں ، 7افراد لقمۂ اجل،33زخمی

ریاسی // ضلع کے مذہبی اورسیاحتی مقام سیاڑھ بابا میںرونما ہوئے ایک المناک حادثہ میں 7 افراد لقمہ اجل جبکہ 33 دیگر زخمی ہوگئے ۔ مہلوکین میں سے بیشتر کا تعلق جموں شہر سے ہے۔ ریاستی گورنر این این ووہرہ نے اس حادثے میں ہوئی انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طور شرائن بورڈ اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت دیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ یہ حادثہ اتوار بعد دوپہر اس وقت پیش آیا جب سیاڑھ بابا میں سینکڑوں سیاح اور عقیدتمندجمع تھے کہ وہاں موجود 200 فٹ اونچی آبشار سے بڑی بڑی چٹانیں کھسکنا شروع ہو گئیں اور ان کی زد میں آکر 40افراد زخمی ہو گئے ۔ ان میں سے 5افراد کی موقعہ پر ہی موت واقع ہو گئی جب کہ 35افراد کو کٹرہ کے نارائنہ ہسپتال اور جموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا ۔ زخمیوں میں اترپردیش سے تعلق رکھنے والا ایک سیاح اشوک کمار اور اس کا 5سالہ بیٹا اکھلیش کمار بھی شامل ہیں۔ نارائنہ ہسپتال میں زیر علاج مزید 2افراد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے اس طرح مرنے والوں کی تعداد7تک پہنچ گئی ۔ مہلوکین کی شناخت لکی ولد پریتم ساکن گنگیال جموں، سچن کمار ولد کلدیپ ساکن جانی پور جموں، سنی کمار ولد نامعلوم اور کمل شرما ولد اوم پرکاش ساکن تالاب تلواور پریتی گپتا زوجہ سنجیو گپتا ساکن جموںاور درشنہ دیوی ساکن ارناس کے بطور پر ہوئی ہے۔ کشمیر عظمیٰ کے پاس موجود زخمیوںکی فہرست کے مطابق بیشتر زخمیوں کا تعلق بھی جموں شہر سے ہے جب کہ چند ایک ریاسی قصبہ کے مکین ہیں۔یہ مقام قصبہ سے 6کلو میٹر دوری پر دریائے چناب کے کنارے پر واقع ہے۔ وہاں بھگوان شیو سے منسوب ایک مندر بھی قائم ہے جہاں روزانہ  سینکڑوں کی تعداد میں لوگ درشن کے لئے آتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اتوار اور گرمیوں کی وجہ سے آج لوگوں کی ایک بڑی تعداد آبشار پر نہانے کے لئے آئی تھی۔ اچانک ساڑھے تین بجے آبشار کے اوپری حصے سے بھاری برکم پتھر نیچے گرآئے اور کم از کم 40 عقیدتمند اس کی زد میں آگئے‘۔ ضلع ریاسی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس طاہر بٹ نے بتایا کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب درجنوں لوگ آبشار پر نہارہے تھے۔ انہوں نے بتایا ’حادثے میں کئی لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے، بیشتر زخمیوں کو مقامی اسپتال میں فرسٹ ایڈ دینے کے بعد گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسپتال جموں اور کٹرہ میں واقع شری نارائنا اسپتال منتقل کیا گیا ہے‘۔ طاہر بٹ نے بتایا کہ احتیاطی طور پر آبشار کے نیچے نہانے پر اگلے احکامات تک روک لگائی گئی ہے۔ عقیدتمندوں اور لوگوں کو وہاں جانے سے روکنے کے لئے وہاں ریاستی پولیس کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں‘۔ادھرگورنر این این ووہرا نے ضلع ریاسی کے سیار بابا واٹر فال میں قیمتی جانیں ضائع ہونے پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے متاثرہ کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔جوں ہی گورنر کو اس حادثے کی خبر ملی انہوں نے سی ای او شری ماتا دیوی ویشنو دیوی شرائین بورڈ دھیرج گپتا کو ہدایت دی کہ وہ اس حادثے میں تمام زخمی افراد کے لئے شرائین بورڈ کے سپر سپیشلٹی ہسپتال ککریال میں فوری علاج و معالجہ کے انتظامات کریں۔بعد میں سی ای او گپتا نے گورنر کو بتایا کہ ہسپتال میں 31زخمی افراد کو ضروری طبی نگہداشت فراہم کی جارہی ہے جن میں سے تین زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔گورنر نے سی ای او سے کہا کہ ان زخمیوں کو فراہم کی جارہی طبی سہولیات پر سارا خرچہ شرائین بورڈ برداشت کرے گا۔