ریاست کے اندر ملی ٹینسی سے ملک میں قوم پرستی اُبھری

سرینگر// جموں کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ہے کہ وادی میں جنگجو تنظیموں کی صفوں میں نوجوانوں کی بھرتی بالکل بند ہوگئی ہے اور پتھراؤ کے واقعات بھی بند ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور وادی کشمیر میں ملی ٹینسی کی وجہ سے ہندوستان میں قوم پرستی ابھری ہے اور ملک نے ایک ساتھ ووٹ کیا ہے۔ نئی دہلی میں ایک نیوز چینل کے ساتھ بات کرتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا 'پاکستان اور کشمیر میں ملی ٹینسی کی وجہ سے ملک میں قوم پرستی ابھری ہے، اس سے ذات پات سب ختم ہوگیا ہے اور دیش نے ایک ساتھ ووٹ کیا ہے، مجھے اندازہ تھا کہ یہی ہوگا'۔ ترال میں انصار غزوۃ الہند کے سربراہ ذاکر موسیٰ کوالقاعدہ کا سب سے خطرناک آدمی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا 'ایک دن میں ایک دو مارے جارہے ہیں، نئی بھرتی بالکل بند ہوگئی ہے، پتھراؤ بند ہوگیا ہے، کل جس کو مارا ہے اس کو موقع دیا تھا سرینڈر کرنے کا، وہ القاعدہ کا سب سے خطرناک آدمی تھا'۔ نور پورہ ترال سے تعلق رکھنے والے ذاکر موسیٰ نے 2013ء میں انجینئرنگ کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ حزب المجاہدین کے سابق جنگجو برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ دونوں نے مل کر پڑھے لکھے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو جنگجوئوں کی صفوں میںبھرتی کیا تھا۔تاہم 12 مئی 2017 ء کو ذاکر موسیٰ نے ایک مبینہ آڈیو بیان جاری کیا جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ 'وہ کشمیر میں شریعت نافذ کرنے کے لئے لڑرہا ہے اور جو کوئی علیحدگی پسند لیڈر اس راہ میں کانٹا بنے گا، اُس کو لال چوک میں لٹکادیا جائے گا'۔ تاہم اس بیان پر چوطرفہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد ذاکر نے 13 مئی کو ایک اور مبینہ آڈیو بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے 'لال چوک میں لٹکانے' کی بات کسی بھی علیحدگی پسند لیڈر کے لئے نہیں کہی تھی۔اس بیچ جب حزب المجاہدین نے ذاکر موسیٰ کے مبینہ بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا تو ذاکر نے حزب المجاہدین سے ہمیشہ کے لئے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا اور اپنی تنظیم 'انصار غزوۃ الہند' بنا ڈالی۔