ریاست کی مخلوط حکومت نے 3 سال ضائع کئے : غلام احمد میر

 جموں // جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ دو سال تک جاری رہنے والی پارٹی ممبر شپ کے دوران ریاست میں 10 لاکھ افراد نے پارٹی کی ممبر شپ حاصل کی ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ کانگرنس کے لئے ریاست میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر غلام احمد میر نے بدھ کے روز یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’کانگریس پارٹی نے دو سال قبل پورے ملک میں ممبر شپ مہم شروع کی تھی۔ سنہ 2015 میں ممبر شپ شروع ہوکر سنہ 2017 کے اوآخر تک جاری رہی۔ اس دوران جموں وکشمیر میں دس لاکھ لوگوں نے کانگریس پارٹی کی ممبر شپ حاصل کی۔ یہ ریاست میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے‘۔ جی اے میر نے پی ڈی پی بی جے پی مخلوط پر تین سال ضائع کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا ’ریاست کی مخلوط حکومت نے میرے حساب سے اپنے تین سال ضائع کئے ہیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ عام لوگوں کو اس سرکار نے کیا دیا؟ پسماندہ اور پچھڑے طبقوں کو کیا ملا؟ بے روزگار نوجوانوں کو کیا ملا؟ جو مسئلے تین سال قبل تھے، وہ آج بھی ہیں۔ جہاں تک ترقی کی بات ہے۔ لوگوں سے بڑے بڑے وعدے کئے گئے۔ بڑے بڑے خواب دکھائے گئے۔ لیکن ہم تین سال بعد دیکھ رہے ہیں کہ ان ہی تعمیراتی پروجیکٹوں کے ربن کاٹے جارہے ہیں جن کو کانگریس پارٹی نے شروع کیا تھا۔ قومی شاہراہیں اور ٹنل پروجیکٹ یو پی اے سرکار کی دین ہیں۔ اس سرکار نے گذشتہ تین برسوں کے دوران ایک بھی نئے پروجیکٹ کا سنگ بنیاد نہیں رکھا۔ جو سرکار تین سال مکمل ہونے کے بعد بھی ایک پروجیکٹ کو وجود میں نہیں لاسکی، وہ اگلی تین سال میں کیا کرے گی؟‘۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مخلوط حکومت کو حالات نے وزارتی کونسل میں ردوبدل کرنے پر مجبور کیا۔ اُن کا کہنا تھا ’میرا ماننا ہے کہ یہ معمول کا ردوبدل نہیں تھا۔ اگر پی ڈی پی ڈاکٹر حسیب درابو اور یہاں بی جے پی اپنے دو وزراء کو نہیں نکالتی تو ردوبدل کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔ ان کو حالات کی وجہ سے ردوبدل کرنا پڑا‘۔ جی اے میر نے بی جے پی مقامی ایم ایل اے دینا ناتھ بھگت کے بیان کہ ’ریاست کی مخلوط حکومت دلت مخالف ہے‘ پر اپنے ردعمل میں کہا ’کانگریس پارٹی پہلے دن سے کہہ رہی ہے کہ یہ بی جے پی حکومت دلت مخالف ہے۔ جب سے یہ سرکار وجود میں آئی ہے تب سے ملک میں کیسے حالات پیدا ہوئے ہیں اور مختلف پسماندہ طبقات کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا ہے، یہ سب آپ کے سامنے ہے۔ لیکن بی جے پی کے ممبران اسمبلی کو یہ نظر نہیں آرہا تھا۔ آج اگر ان کے اپنے ایم ایل اے نے سوال اٹھایا، میں سمجھتا ہوں کہ اس نے ہمارے موقف کو مضبوط اور مستحکم کیا ہے‘۔ یو این آئی