ریاست کی مالی خودمختاری کیخلاف سازش: حکیم یاسین

سرینگر //پی ڈی ایف چیئرمین حکیم محمد یاسین نے جموں وکشمیر بنک کے بارے میں لئے گے فیصلے کو ریاست کی مالی خود مختاری کے خلاف ایک گہری سازش سے تعبیر کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جی جے پی سابق مخلوط سرکارنے پہلے جی ایس ٹی قانون کو نافذ کیا اور اب جموں وکشمیر بنک کے بارے میں ریاستی انتظامی کونسل کا حالیہ فیصلہ ریاست کی اقتصادی صورتحال کو کمزور کرنے کی دوسری بڑی سازش ہے ۔اپنے ایک بیان میں حکیم محمد یاسین نے کہاکہ گور نر انتظامیہ نے جس مشکوک طریقے پر جموں وکشمیر بنک کے خود مختار کردار کو گھٹا کر ایک پبلک سیکٹر ادارہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے اس فیصلے سے عام لوگوں اور تجارتی حلقوں میں طرح طرح کے خدشات نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ ریاست میں کام کر رہے دیگر تقریباــ50کے قریب بنکوں اور مالیاتی اداروں کے خلاف ان کی ناقص کارکردگی پر اُن سے جواب مانگا جاتا مگر اس کے برعکس جموں وکشمیر بنک جس کی اجتماعی کارکردگی سالہا سال سے بہتر رہی ہے کے خلاف مذکورہ اقدامات کئے گے ہیںجو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں ۔انہوں نے گورنر انتظامیہ پر روز دیا ہے کہ وہ لوگوں کے خدشات اور شکوک وشبہات کو مدنظر رکھتے ہوئے جموں وکشمیر بنک کے بارے میں انتظامی کونسل کے حالیہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر بنک کی خود مختاری کے ساتھ چھڑ چھاڑ کی گئی تو اس کی کارکردگی پر برا اثر پڑے گا ۔