ریاست کی خصوصی پوزیشن کا تحفظ لازمی

سرینگر //نیشنل کانفرنس کے صدر اوع ممبر پارلیمنٹ  ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے گاندربل ( سالورہ ) میں پارٹی کے مقامی عہدیداراں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کے تینوں خطوں کی وحدت ، اجتماعیت اور کشمیریت کے ساتھ ساتھ صدیوں کا بھائی چارہ مذہبی ہم آہنگی ، عظیم روایتوں اور بھائی چارہ کے مشعل کو فروزاں رکھنے کے لئے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُن دشمنوں اور کٹر فرقہ پرست ذہنیت والے خاص کر کشمیر دشمن عناصروں کا مقابلہ تب ہی کر سکتے ہیں جب ہم متحد ہو ہوں۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ نیشنل کانفرنس وہ واحد سیاسی اور عوامی نمائندہ جماعت رہی ہے جس کو اپنا تحریک اور تاریخ کا ایک منفرد مقام حاصل ہوا ہے کیونکہ اسی جماعت نے یہاں کے لوگوں کے صدیوںکی شخصی راج کی غلامی ظلم وستم اور ناانصافی سے نجات دلایا۔انہوںنے کہا کہ نوجوان پود کو عملی طور پر میدان میںآکر لوگوںکی خدمت اور ریاست کے عوام کو اس تباہ کن دل دل اور عتاب کے دور سے نجات پانے کیلئے اپنا رول ادا کرنا ہوگا کیونکہ نوجوان پود ہی ہمارے مستقبل کے معمیار اور روشن تارے ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ ریاست کے موجود ہ پر آشوب دور اور دہشت کے ماحول کے خاتمہ کی واحد صورت مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل اور ہند پاک کی دوستی میں ہی مضمر ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے لوگوں کو آئین ہند کے تحت ( 35 اے اور 370 ) کے تحت جو آئینی اور جمہوری مراعات دئے گئے ( دہلی اگریمنٹ اور 1952 کی پوزیشن ) اٹانوامی کی بحالی سے ریاست میں کافی حد تک امن لوٹ آنے کی واحد صورت ہیں۔