ریاست کی آئینی تخصیص پھرچیلنج

سرینگر// پارلیمنٹ کے ذریعے کسی بھی آئینی ترمیم کا ریاست جموں وکشمیر پر دفعہ 370کے تحت ملکی صدر کے حکم کے بغیر عدم اطلاق دہلی کی عدالت عالیہ میں چیلینج کیا گیا ہے اور اسے مذکورہ عدالت نے سماعت کیلئے قبول کرتے ہوئے اسکی تاریخ اگلے ماہ کے اوائل میں مقرر کی ہے۔ دلی کے ہی ایک وکیل کے ذریعے آئین کی اس شق کو چیلینج کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر پر دفعہ370کے تحت یہ آئینی تخصص آئین ہند پر ’’جبریتجاوز‘‘ کے مترادف ہے لہٰذا اسے ختم کیا جانا چاہئے ۔دہلی کے چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس سنگیتا دھینگرا سہگل پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے ایڈوکیٹ سرجیت سنگھ کی جانب سے پیش کی گئی مفاد عامہ عرضی پر سماعت ہوئی ۔اس عرضی میں ایڈوکیٹ سنگھ نے آئین کی اس شق کو ہی چیلینج کیا ہے جس کے تحت ریاست جموں وکشمیر کو پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کی جارہی آئینی ترامیم کا براہ راست اطلاق سے الگ رکھا گیا ہے اور اس طرح کی آئینی ترامیم کو ریاست جموں وکشمیر پر اطلاق کیلئے صدر جمہوریہ ہند کے احکامات سے مشروط کردیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ آئین کا حکم 1954میںشامل دفعہ368(آئین کی ترمیم اور اسکے اطلاق سے متعلق پارلیمنٹ کے اختیارات)میں جموں وکشمیر کو دی گئی تخصیص پارلیمانی اختیارات پر ’’جبریتجاوز‘‘ کے مترادف ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔آئین کی دفعہ370ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی خودمختار درجہ فراہم کرتا ہے اور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی قانون بشمول آئینی ترامیم ریاست جموں وکشمیر پر صدر ہند کے حکم کے بغیر قابل اطلاق نہیں ہے ۔ڈویژن بنچ نے اس عرضی پر سماعت جاری رکھنے کیلئے اگلے ماہ 2جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے ۔