ریاست کوبھارت میں ضم کرنے کی کوشش

 
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ بھارت میں اس وقت جو فرقہ پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے، اگر اس پر فوری طور پر قابو نہیں پایا گیاتو ایسے شعلے بھڑکیں گے جو نہ صرف بھارت بلکہ ریاست جموں وکشمیر اور سرحد پار تک جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ سیکولر طاقتیں متحدہ ہوکر ریاست جموں وکشمیر کو فرقہ پرستی کی آگ کی نذر ہونے سے بچائیں۔اپنی رہائش گاہ پر مختلف عوامی وفود سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ ہمارا دشمن مشترکہ ہے، اس لئے ہمیں تمام رنجشیںاور دوریاں بالائے طاق رکھ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ صرف اسی صورتحال میں ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہموجودہ انتخابات میںایک طرف تمام فرقہ پرست جماعتوں نے مل کر کشمیریوں کے مفادات سلب کرنے کیلئے تمام مشینری متحرک کردی ہے اور دوسری جانب یہاں کے عوام کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے نت نئے حربے اپنائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر دشمنوں نے اپنے آلہ کاروں کو یہاں پر کام پر لگا رکھا ہے اور یہ لوگ انتخابات میں سرکاری مشینری ، ووٹ کے بدلے نوٹ، طاقت کے بلبوتے اور دیگر حربے اپنانے میں لگے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ فرقہ پرست جماعتیں جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن، اجتماعیت اور وحدت کوختم کرکے ریاست کو مکمل طور پر بھارت میں ضم کرنے کی تاک میں بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج بھی دشمنوں کی چالوں کو نہیں سمجھیں گے تو ہماری شناخت کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہوگا۔ اس موقعے پر ماہر تعلیم شیخ غیاث الدین نے نیشنل کانفرنس میںشمولیت اختیار کی۔