ریاست میں119برس بعد ڈنمارک سے جدید طرز کا ٹراوٹ مچھلی بیج درآمد

بڈگام//ملک میں پہلی مرتبہ جموںوکشمیر ریاست نے ڈنمارک سے 119برسوں کے بعد رین بو ٹراوٹ کے جدید بیج درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بدولت اگلے پانچ برسوں کے دوران ٹراوٹ مچھلیوں کی پیداوار پانچ ہزار ٹن تک پہنچنے کی امید ہے۔ان باتوں کا اظہار پشو و بھیڑ پالن و ماہی پروری کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون بیروہ بڈگام میں ایک ہیچری کا افتتاح کرنے کے بعد کیا۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر سامون نے کہا کہ ہیچری میں بیج کو پال کر چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تیار کی جائیں گی جنہیں بعد میں کسانوں اور دیگر ہیچریوں میں تقسیم کیا جائے گا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی مچھلیاں اب وادی میں ہی 12سے 14ماہ کے اندر اندر تیار کی جائیں گی جنہیں پہلے 24ماہ درکار تھے۔انہوں نے کہا کہ اس عمل سے کسانوں کی پیداوار بڑھے گی اور اُن کے آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔ڈاکٹر سامون نے کہا کہ وادی میں رین بو ٹراوٹ مچھلیاں پالنے کے لئے کافی تعداد میں آبی ذخائر موجود ہیں تاہم ان وسائل کو بھرپور طریقے پر بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ ٹراوٹ مچھلیاں پہلی مرتبہ کشمیر میں سال 1900 میں متعارف کی گئی۔جدید طرز کا بیج حاصل کرنے کے لئے ڈاکٹر سامون نے ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے تاکہ آر اے ایس ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ٹراوٹ مچھلیاں پانے کے لئے آلات اور دیگر ٹیکنالوجی منتقل کی جاسکے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ رین بو ٹراوٹ مچھلی متعارف کرنے سے زیادہ سے زیادہ کسان ماہی پروری کی طرف راغب ہوں گے کیوں کہ اس میں آمدن کے کافی وسائل موجود ہیں۔ڈاکٹر سامون نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ نوجوانوں میں بیداری پیدا کریں تاکہ وہ اس سیکٹر کی طرف راغب ہوسکیں۔انہوں نے 42لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہوئی ہیچری کے بہتر رکھ رکھائو پر بھی زور دیا۔ پرنسپل سیکرٹری نے ضلع سری نگر اور گاندربل کے تین ماہی پروروں میں آٹو رکشا تقسیم کئے ۔ علاوہ ازیں دو مستحقین میں ایک ایک لاکھ روپے کا چیک تقسیم کیا۔بعدمیں ڈاکٹر سامون نے ضلع لیبارٹری ، اوپریشن تھیٹر کم انڈور فیسلٹی کمپلیکس کا بھی سنگ بنیاد رکھاجسے 95لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے ۔اس سہولیت سے ضلع کی ایک لاکھ بیالیس ہزار میویشیوںکی آبادی کو طبی سہولیات دستیاب ہوں گی۔