ریاست میں جی ایس ٹی کانفاذ

 سرینگر//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور وزیر خزانہ حسیب درابو کی طرف سے جی ایس ٹی کی ترتیب کے دوران ٹیکس عائد کرنے کی جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کا دفاع کرنے کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے پی ڈی پی کے نوجوان اسمبلی ممبران اعجاز احمد میر ، دلاور میر اور فردوس احمد ٹاک نے کہا کہ یہ کافی عرصے کے بعد ہوا ہے کہ جموں و کشمیر سرکار کو پوچھے بغیر پارلیمنٹ میں ترمیم نہیں کی گئی کیونکہ ہماری ریاست بھارت کی واحد ریاست ہے جسکو ٹیکس کا تعین خود کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اشیاءاور سروس ٹیکس کا تعین کرنے کیلئے مرکزی سرکار کی طرف سے بنائی گئی اعلی اختیارات والی کمیٹی کے سامنے حسیب درابو کے سخت رویہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس کے حوالے سے وہ ریاست کا مخصوص درجہ بچانے میں کامیاب رہے۔ نوجوان لیڈران نے بتایا کہ حسیب درابو کے سخت رویہ کے بعدمرکزی وزیر خزانہ ارن جیٹلی نے صاف کیا ہے کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے جی ایس ٹی کے قوائد و ضوابط ترتیب دیں گے۔ریاستی سرکار کی طرف سے روزگار فراہم کرنے والے اداروں اور صنعتوں کو دی جانے والی مرعات کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں لیڈران نے وزیر خزانہ کے تجارتی پیشہ افراد کے تیں دوستانہ رویہ کی سراہنا کی ہے۔