ریاست میں اقلیتی کمیشن کا قیام

 نئی دہلی//عدالت عظمیٰ نے پیر کوواضح کردیا ہے کہ وہ جموں کشمیر کی قانون سازیہ کو اس بات کی ہدایت نہیں دے سکتی کہ وہ ریاست میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل کریں تاہم مرکز سے کہا گیا ہے کہ وہ اس پر غور کریں۔جموں وکشمیر میں مسلمانوں کو دی جانے والے اقلیتی حقوق کے خلاف دائر  درخواست پر عدالت عظمیٰ میں پیر کو شنوائی ہوئی۔مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والے3رکنی بینچ نے درخواست گزار انکر شرما سے کہا’’ہم کس طرح ریاستی قانون سازیہ کو کہیں یا انہیں ہدایت دیں کہ وہ مخصوص انداز میں قانون بنائے،جبکہ مرکز کا کہنا ہے کہ ہم اس کو زیر غور لائے گے اور پھر عدالت میں واپس آئیں گے‘‘۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا’’ ہم اس مسئلے پر اس طرح کی کوئی ہدایت جاری نہیں کرسکتے،یہ ان پر منحصر ہے‘‘۔سپریم کورٹ نے8اگست کو مرکزی و ریاستی سرکار کو3ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر ریاست میں اقلیتی کمیشن کو تشکیل دینے کے معاملے کو زیر غور لائیں‘‘۔اس سے قبل گزشتہ دن ریاست کے سابق بیرو کریٹوں،معروف صحافیوں، ماہرین تعلیم اور قانون دانوں پر مشتمل متفکر شہریوں کے گروپ نے جموں کشمیر میںمسلمانوں کو اقلیتی فوائد ملنے کے خلاف سپریم کورٹ میں چلینج کرنے سے متعلق عرضداشت پرریاستی سرکار کو ٹھوس موقف لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ’’نا قابل یقین نتیجہ‘‘ ہے کہ درخواست ریاست کے مفادات اور اس کے زیر اثرات معاملات پر منفی اثرات مرتب کریں۔ فکر مند شہریوں کے گروپ نے کہا تھا کہ درخواست میں اس حقیقت کو پس پردہ رکھا گیا ہے کہ دفعہ2 شقcکے تحت مرکزی حکومت نے مسلمانوں،عیسایوں،سکھوں بودھوں اور پارسیوں کے بعد اب جینوں کو بھی بھارت کے قومی اقلیت کا درجہ دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ قومی اقلیتوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور بھارت بھر کے تناظر میں انہیں اقلیتی درجہ دیا گیا۔یہ درخواست جموں نشین وکیل انکر شرما نے سپریم کورٹ میں دائر کی ،جبکہ عوامی مفاد عامہ میں دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کو اقلیتی فوائددئیے جانے کا سلسلہ بند کیا جائے،جبکہ درخواست گزار نے جموں کشمیر میں اقلیتی کمیشن کی تشکیل اور قومی اقلیتی کمیشن کو ریاست میں نافذ کرنے کی درخواست بھی پیش کی ہے۔