ریاستی سرکار وجے پور کی عبداللہ بستی کو اجاڑنے پر بضد

جموں//ضلع سانبہ کی انتظامیہ جموں سے 25کلو میٹر دور ، وجے پور کے مقام پر بر لب شاہراہ آباد خانہ بدوشوں کی ایک بستی کو جموں ایمز کے قیام کےلئے اجاڑنے کے لئے کمر بستہ ہے ، اگر چہ ارد گرد اور بھی کئی بستیاں آباد ہیں لیکن ایمز کی تعمیر کے لئے بنائی گئی منصوبہ بندی کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس عبداللہ بستی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ 200سے زائد خانہ بدوش کنبوں کا 18برس سے بنا ہوا یہ مسکن 1999میں اس وقت آباد ہوا تھا جب حکومت نے انہیں از خود بسایا تھا۔ ایمز کی تعمیر کے لئے اگر چہ کئی متبادل اپنائے جا سکتے تھے لیکن مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ مقامی ممبر اسمبلی جو کہ کابینہ وزیر بھی ہیں ، کی ہدایات پر انتظامیہ اس بستی کو اجاڑنے کے درپہ ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ وجے پور حلقہ کے رکھ بروٹیاں کی عبداللہ بستی اس وقت بھی بی جے پی لیڈرکی آنکھوںکا کانٹا بنی ہوئی تھی جب ایمز کا کوئی منصوبہ نہ تھا۔ یہاں کے مکین 1999سے قبل رام گڑھ کے سرحدی علاقہ میں قیام پذیر تھے، کرگل جنگ کے دوران ہند پاک سرحد پرکشیدگی جب عروج پرتھی تو سرحدی علاقے خالی ہونے لگے ، انتظامیہ نے خانہ بدوشوں کو بھی اپنا علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا۔ وقت کے ساتھ حالات بھی درست ہو گئے لیکن انتظامیہ نے انہیں واپس نہیں جانے دیا اور وہ مستقل طور پر عبداللہ بستی میں آباد ہو گئے، حکومت نے ان کے لئے ایک مڈل اسکول قائم کیا تو لوگوں نے ایک مسجد شریف تعمیر کر لی۔ ان لوگوں کاکہنا ہے کہ وہ اگر چہ وہ ایمز کے قیام سے مسرور تھے لیکن انتظامیہ نے ہزاروں کنال خالی پڑی زمین کو چھوڑ کر ان کی بستی کو اجاڑنے کا جو منصوبہ بنایا ہے وہ یقینی طو پر ایک سوچی سمجھی سازش ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ 2008میں امرناتھ زمین تنازعہ کے دوران فرقہ پرست عناصر نے انہیں تنگ کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا اور یہ سلسلہ تب سے مسلسل جاری تھا کہ اب ایمز کے نام پر انہیں اجاڑنے کی پوری تیاری کر لی گئی ہے ۔ نہ ہی تو گوجر قیادت اور نہ ہی سیاسی لیڈران انہیں سہارہ دینے کے لئے آگے آرہے ہیں۔ عبداللہ بستی کے مکین اپنے مستقبل کو لے کر تشویشمند ہیں، انہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ کہاں جاکر رہیں گے اور کب تک انہیں وہاں قیام کی اجازت دی جائے گی ، پھر کوئی اور فرقہ پرست لیڈر انہیں وہاں سے کھڈیڑنے کے لئے کسی دوسرے محکمہ کا سہارہ لے لے گا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، وزیر مال اور دیگر لیڈران سے ملاقات کی جہاں سے انہیں صرف کھوکھلی یقین دہانیاں ہی ملیں ۔دریں اثنا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عبداللہ بستی کے مکینوں کو متبادل جگہ پر بسانے کے لئے دریائے دیوک کے کنارے ایک قطعہ اراضی مختص کیا ہے اور ہر کنبہ کو 10مرلہ کا پلاٹ دیا جائے گا۔ایک سرکاری افسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گوجروں کو الٹی میٹم جاری کر دیا گیا ہے اور اگر انہوں نے رواں ماہ کے اواخر تک زمین خالی نہ کی تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی کیوں کہ حکومت نے ستمبر کے
 پہلے ہفتہ تک زمین ایمز کی تعمیر کے لئے محکمہ صحت کو دینے کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں دیوک کے کنارے بسانے کا منصوبہ بھی ایک سوچی سمجھی سازش ہے ، برسات کے دنوں میں یہ علاقہ زیر سیلاب رہتا ہے ،یہاں رہائشی ڈھانچوں کے علاوہ مال مویشی اور انسانی جانوں کو بھی ہر وقت خطرہ درپیش رہے گا۔