ریاستی درجے کی بحالی سے قبل انتخابات منعقد کر نادوسری غلطی

سرینگر//کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزادنے جموں وکشمیرکی تقسیم کوپہلی غلطی اور ریاستی درجے کی بحالی سے قبل ہی انتخابات منعقد کرنے کو دوسری غلطی سے تعبیر کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ششماہی دربارموکوختم کرنے سے کشمیر کو نہیں بلکہ جموںکوزیادہ نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی اقتصادیات، مقامی صنعتوں وشعبوںپر منحصر ہے جبکہ جموں کی اقصادیات کاانحصار کافی حدتک سرمائی مہینوں میں کشمیرسے یہاں آنے والے لوگوں پر ہی ہے ۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق ایک نیوز پورٹل کے ساتھ بات کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموں و کشمیر میں زائد از 125 صدی پرانی ششماہی دربامو کی روایت سے سب سے زیادہ فائدہ جموں کو تھا۔غلام نبی آزادنے کہا کہ جب میں وزیر اعلیٰ تھا تو میرا بھی خیال تھا کہ اس روایت کو ختم کیا جانا چاہئے کیونکہ اس سے کافی پیسہ اور وقت ضائع ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کو پہلے ریاستی درجہ واپس ملنا چاہئے اور بعد میں یہاں انتخابات منعقد کرائے جانے چاہئے۔انہوں نے کہا کہ میں خود دربار مو کی روایت کے خلاف تھا کیونکہ اس سے کافی پیسہ اور وقت ضائع ہوتا تھا، اورمیں جب وزیر اعلیٰ تھا تو مجھے بھی اس کو ختم کرنے کا خیال آیا لیکن میں نے جب جموں میں لوگوں کے ساتھ اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے سے ہم مر جائیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ دربار مو سے سب سے زیادہ فائدہ جموں کو تھا کشمیر کو کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ جب دربا جموں میں لگتا تھا تو کشمیر کے ملازمین اپنی پورے کنبوںکے ساتھ جموں منتقل ہو جاتے تھے اور6 مہینوں تک وہیں سکونت اختیار کرتے تھے جبکہ جموں کے ملازمین اکیلے کشمیر آتے تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی اقتصادیات شعبہ سیاحت، باغبانی اور دستکاری پر منحصر ہے لہٰذا وہ جموں پر منحصر نہیں ہیں بلکہ وہ دلی پر زیادہ انحصار نہیں کرتے ہیں۔ آزاد نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جب یہ اعلان کیا ہے کہ ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا تو اب اس میں کیا قباحت ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ میں نے کل جماعتی میٹنگ میں وزیر داخلہ سے کہا کہ سابقہ ریاست جموں وکشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی جو غلطی کی اور اب ریاستی درجے کی بحالی سے قبل ہی انتخابات منعقد کر کے دوسری غلطی نہ کی جائے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک سرحدی ریاست ہے، ہمارے سر پر پاکستان اور چین بیٹھا ہے، لہٰذا سرحدی ریاست کے لوگوں کو ناراض نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ ان لوگوں کو ساتھ لے کر ہی دشمن کے ساتھ لڑنا ہے۔مظفر حسین بیگ کی کانگریس میں شمولیت کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ کانگریس میں کوئی آنے والا ہے نہ جانے والا کیونکہ ہم جوڑ توڑ کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے ہیں ۔انتخابات میں حصہ لینے کے متعلق پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ بی جے پی کا الگ ہی ایک ٹرمپ کارڈ ہوتا ہے، اس پارٹی کو انتخابی مہم چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے لیکن کانگریس اور دوسری جماعتوں کو کام اور خدمات کی بنیادوں پر الیکشن لڑنا پڑتا ہے۔