ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری ر کھیں گے پنجابی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کرنا ایجنڈے پرسرفہرست : بخاری

عظمیٰ نیوز سروس

جموں//اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے منگل کے روز کہا کہ پنجابی زبان کو جموں و کشمیر میں سرکاری زبانوں میں سے ایک تسلیم کرنا ان کی پارٹی کے اولین ایجنڈے میں شامل ہے۔الطاف بخاری نے یہاں گاندھی نگر، جموں میں شمولیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’پنجابی زبان کو جموں و کشمیر میں سرکاری زبانوں میں سے ایک کے طورپرتسلیم کرنا ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے،اس زبان کا بہت بڑا حصہ ہے اور یہ جموں و کشمیر کے بیشتر خطوں میں تمام برادریوں کے لوگ بولتے ہیں‘‘۔اس پروگرام کا اہتمام خواتین ونگ کی صوبائی صدر جموں پونیت کور نے کیا تھا۔اپنی پارٹی کے صدر کی موجودگی میں سکھ کمیونٹی کے ممتاز سماجی کارکن اندرپال سنگھ اپنے حامیوں سریندر سنگھ، رنجیت سنگھ، بلا پردھان، پرمجیت سنگھ، بچن کمار، اجیت سنگھ اور دیگر کے ساتھ اپنی پارٹی میں شامل ہوئے۔ بخاری نے کہا کہ سکھ برادری کے مسائل پارٹی حل کرے گی اور کسی کو نمائندگی کے بغیر محرومی کاشکار نہیں ہونے دیاجائیگا۔پنجابی زبان کو سرکاری زبانوں کے طور پر تسلیم کرنے کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے سکھ برادری کے نئے آنے والوں اور دیگر رہنمائوں کو یقین دلایا کہ جموں و کشمیر میں پنجابی زبان کو سرکاری زبانوں میں سے ایک تسلیم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر میں ادب اور ثقافت میں زبان کی شراکت کو یاد کیا جس میں تاریخی آثار ہیں۔انہوں نے حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ ہر علاقے سے سکھ برادری کے ارکان کو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی دے۔ انہوں نے کہا’’اپنی پارٹی تمام برادریوں کو نمائندگی فراہم کرکے اور ان کے مسائل کو حل کرکے ان کی سماجی، معاشی اور سیاسی بہتری کے لیے کام کرنے کے لیے پرعزم ہے‘‘۔ بجلی کے بحران کے گہرے ہونے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا جس کے بعد جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے لوگوں کودرپیش اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پہل کی اور اسی کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بجلی کی خریداری کے لیے ایک میٹنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ سخت سردی کے موسم کے پیش نظر جموں و کشمیر کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے مزید بجلی خریدنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنی پارٹی ریاست کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے۔اس سے قبل انہوں نے کہا ’’اگر ہم اقتدار میں آتے ہیں، تو ہم جموں و کشمیر میں مختلف ا سامیوں کے لیے منصفانہ بھرتی کا عمل کریں گے اور اس کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مناسب عملے کی تعیناتی اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کر بہتری لائی جائے گی‘‘۔