ریاستی درجہ کی بحالی اور نوکریوں میں تحفظ کا مطالبہ

سیاسی، سماجی واقتصادی مسائل پر19نکاتی یادداشت پیش 

 
سرینگر//گزشتہ سال 5اگست کو مرکزی حکومت نے جموں کشمیر سے متعلق جو فیصلے لئے،اُن سے مجموعی طورلوگ ناخوش ہیں اور اُن کی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے اُن کی خواہشات اور توقعات پر پورااُترنا ہوگا۔ان باتوں کااظہار اپنی پارٹی کے ایک وفد نے جموں کشمیرکے لیفٹینٹ گورنرجے سی مرمو سے ملاقات کے دوران کیا۔ایک بیان کے مطابق’ اپنی پارٹی‘ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد صدر الطاف بخاری کی سربراہی میں لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو سے راج بھون سرینگر میں ملاقی ہوا۔ ملاقات کے دوران مرکز ی زیر انتظام جموں وکشمیر کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ پارٹی نے ایل جی موصوف کو بتایاکہ جموں وکشمیر تنظیم نوفیصلے کو ایک برس پورا ہونے میں پندرہ دن ہی باقی ہیں، 5اگست کو حکومت ِ ہند نے جوفیصلہ لیاتھا اُس سے مجموعی طورلوگ ناخوش ہیںجن کی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے اُن کی خواہشات وتوقعات پر کھرا اُترنا ہوگا۔ اس سلسلہ میں جموں وکشمیر کے ریاستی درجہ کی فوری بحالی اہم ہے ۔ وفد نے کہاکہ جموں وکشمیر کے عوام کے اعتماد کو جیتنے کے لئے مرکز کو اپنی دہائیوں پرانی پالیسیوں کا سرنو جائزہ لینا ہوگا اور عوام سے نپٹنے کے لئے حفاظتی اقدامات پر مکمل انحصار اور سیاسی خواہشات کو امن وقانون کے آئینہ سے دیکھنے کے رویہ کو ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیاکہ جموں وکشمیر کی معاشی ترقی صرف اُسی صورت میں ممکن ہے جب عوام کی سیاسی خواہشات کا انسانی طریقہ سے حل نکالاائے۔ اس سمت میں جموں وکشمیر تنظیم نو کے ایک سال مکمل ہونے پر ریاستی درجہ کی بحالی بڑاقدم ثابت ہوسکتا ہے۔ اپنی پارٹی کے اعلیٰ سطحی وفد نے سماجی، سیاسی واقتصادی مسائل پر مبنی 19نکاتی مطالبات پر یادداشت بھی لیفٹیننٹ گورنر کو پیش کی جس میں ریاستی درجہ کی بحالی،زمین اور نوکریوں پر اقامتی حقوق، قیدیوں کی رہائی، کشمیر میں نوجوانوں کیخلاف دائر کیسوں کی واپسی،جموں وکشمیر بینک کی خود مختار فعالیت کو یقینی بنانے،زرعی اور باغبانی شعبوں کا احیائے نو، صنعت وحرفت شعبوں کومالی امدادومراعات دینے، اہم معاشی شعبہ جات پر پڑے لا ک ڈاؤن اثر کا ازالہ، سیاحت اور ملحق سیکٹر کا احیائے نو،انٹرنیٹ کی بحالی، قومی شاہراہ اور اندروانی روابط کی بحالی، مغل روڈ کو متبادل شاہراہ کے طور ترقی دینے،جیالوجی اور کان کن سرگرمیوں پر مقامی افراد کے حقوق کا تحفظ ،تعمیری سرگرمیوں کی بحالی، سرحدی علاقہ جات میں بینکروں کی تعمیر، پہاڑی قبیلہ کی ریزرویشن میں آمدنی شق کو ہٹانے،کشمیر میں سیاسی کارکنان کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے ،ڈیلی ویجرز ور دیگر کم تنخواہ دار ملازمین کی ریگولر آئزیشن ،ایس آر او202کو مکمل طور ختم کرنے اور سرینگر میں علیحدہ کیٹ بنچ قائم کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے وفد کو یقین دلایاکہ یادداشت میں شامل جومطالبات اُن کے حدِ اختیار میں ہیں، وہ ترجیحی بنیادوں پر انہیں حل کریں گے اور جومرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں وہ زور وشور کے ساتھ مرکز کے ساتھ  اُٹھائے جائیں گے۔ وفد میں الطاف بخاری کے علاوہ غلام حسن میر،رفیع احمد میر،ظفر اقبال منہاس،حاجی محمد اشرف میر،جاوید حسن بیگ،عثمان مجید گنائی،عبدالمجید پڈر،عبدالرحیم راتھر،نور محمد شیخ،راجہ منظور،غلام محمد بھوان،شعیب لون،جاوید احمد مرچال،منتظرمحی الدین،عرفان نقیب،ڈاکٹر میر سمیع اللہ،سعید فاروق اندرابی اورجگموہن سنگھ رینہ شامل تھے۔